Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ہمیں سپرسٹار کی نہیں، سپر سسٹم کی ضرورت ہے: جہانگیر ترین

جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ جب سب سیاسی جماعتیں اکٹھی چلیں گی تو ملک ترقی کرے گا (فوٹو: آئی پی پی)
استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے سپرسٹار نہیں بلکہ سپرسسٹم کی ضرورت ہے۔‘
جمعے کو صوبہ پنجاب کے وسطی شہر حافظ آباد میں استحکام پاکستان پارٹی کی جانب سے ورکرز کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔
جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان ہیلی کاپٹر کے ذریعے حافظ آباد پہنچے. جلسہ گاہ میں حسب روایت کرسیوں پر جھنڈے لگائے گئے تھے. مقامی اور آس پاس کے لوگ ٹولیوں کی شکل میں شامل ہوتے گئے۔ پنڈال میں داخل ہوتے ہوئے یہ لوگ نعرہ بازی کرتے رہے۔
ابتدا میں سوشل میڈیا پر خبریں گردش کرنے لگیں کہ آئی پی پی کے ورکرز کنونشن میں لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم کنونشن شروع ہوتے ہی عوام کی تعداد بڑھ گئی۔ اس حوالے سے پارٹی کی میڈیا ٹیم نے ڈرون فوٹیج بھی جاری کی۔ جلسے سے سربراہ استحکام پاکستان پارٹی جہانگیر ترین، صدر علیم خان اور ترجمان ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے خطاب کیا۔ سٹیج پر عون چوہدری سمیت دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔
ورکرز کنونشن سے جہانگیرترین نے لکھی ہوئی تقریر کی۔ اپنی تقریر میں انہوں نے دبے لفظوں میں عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ افسوس سیاسی جماعتوں کی آپس کی لڑائیوں سے بہت زیادہ نقصان ہوا ’ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے سپر سٹار نہیں بلکہ سپرسسٹم کی ضرورت ہے۔‘ انہوں نے اپنی پچھلی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت شخصیات اہم نہیں ہیں۔ اس وقت آپ عوام اور یہ ملک اہم ہے۔‘
 ورکرز کنونشن سے خطاب میں انہوں نے عوام کو اُمید دلاتے ہوئے کہا کہ ’آپ لوگوں نے مایوس نہیں ہونا ہم نے بہتری لانی ہے، ہمیں اللہ پر پورا یقین رکھنا ہے۔ عوام نے امید کا دامن پکڑے رکھنا ہے۔ ماضی میں کئی اچھے کام ہوئے مگر کئی ادھورے رہ گئے۔ سیاسی جماعتوں کی آپس کی لڑائیوں میں بہت وقت ضائع ہوا، وقت کا تقاضا ہے سب سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ ہمیں آپس کے اختلافات کو بھلا کر ملکی مفاد کو سامنے رکھنا ہوگا۔‘
جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ جب سب سیاسی جماعتیں اکٹھی چلیں گی تو ملک ترقی کرے گا۔ ’آنے اور جانے والی حکومت میں طے ہوگا کہ منصوبوں میں رکاوٹ نہیں آئے گی، سب اداروں میں ہم آہنگی اور سب اپنے اپنے دائرے میں رہ کر ترقی میں کردار ادا کریں۔‘
 انہوں نے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم سب مل کر آگے بڑھیں۔ سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ ملکی مفاد کے لیے سب مل کر کام کریں.‘
انہوں نے اس دوران فوجی عسکری قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ’فوج ہماری محافظ ہے جو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتی ہے، ہمیں فوج کو اور مضبوط کرنا ہوگا۔ ہماری فوج ملکی سلامتی کی ضامن ہے ہمیشہ اپنی فوج پرفخر کرنا چاہیے، شہداء کی ماؤں کو سلام پیش کرتے ہیں۔‘
جہانگیر ترین نے کہا کہ ’ہم امید دلانا چاہتے ہیں لیکن ایسا کوئی وعدہ نہیں کریں گے جو پورا نہ کرسکیں، خواتین ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہیں۔‘

جہانگیر ترین نے کہا کہ ’ہم امید دلانا چاہتے ہیں لیکن ایسا کوئی وعدہ نہیں کریں گے جو پورا نہ کرسکیں۔‘ (فوٹو: آئی پی پی)

انہوں نے پارٹی منشور پر مبنی چند نکات بھی بتائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’نوجوانوں کو آسان شرائط پر قرض دلوائیں گے جبکہ مزدور کی کم سے کم تنخواہ 50 ہزار ہوگی۔‘ اس دوران انہوں نے لاہور میں فضائی آلودگی سے متعلق کہا کہ ’لاہور آلودہ ترین شہر بن چکا ہے، پٹرول، ڈیزل کے معیار کو بہتر بنائیں گے، آلودگی میں کمی کے لیے اقدامات کریں گے۔‘
استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عوام کے لیے بہترین علاج معالجے کو یقینی بنایا جائے گا۔ ’عہد کریں کہ سب سے پہلے اپنے ملک کا سوچیں گے۔ باہمی جھگڑوں اور الزام تراشیوں کے بجائے ہم ہنسی خوشی آگے بڑھیں گے۔‘
استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور تحریک انصاف کو مجموعی طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’تبدیلی سرکار نے جتنی کرپشن کی کسی اور نے نہیں کی، اب کی بار ان لوگوں کو اپنے انجام تک پہنچانا ہے۔ ہم تو کئی بار دوستوں کے ہاتھوں ڈسے گئے ہیں، پی ٹی آئی نے چار سال لوٹ مار کی، ہمیں شوکت خانم دکھا کر جھانسہ دیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بزدار کو پنجاب پر مسلط کیا گیا، کہتے تھے بزدار تبدیلی کا چہرہ ہے آج کہاں ہے۔‘
’2018 میں 95 روپے کا پیٹرول تھا۔ آج کہاں پہنچ گیا، پانچ سالوں میں پی ٹی آئی اور ن لیگ نے مہنگائی میں اضافہ کیا، 2011 میں بجلی کی قیمت11 روپے فی یونٹ تھی، آج 60 روپے فی یونٹ ہے، آٹا 37 روپے کلو تھا، آج 200 روپے کلو ہے۔‘
 انہوں نے خطاب میں وعدے کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت ملنے کے بعد موٹر سائیکل سواروں کو پیٹرول سستا دیں گے، 290 روپے لیٹر والا پیٹرول 140 روپے دیں گے، 300 یونٹ تک بجلی فری فراہم کریں گے۔ بجلی کے پیسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ادا کریں گے، موقع ملا تو بی آئی ایس پی کی رقم بڑھائیں گے۔ غریب کے بجلی کے بل حکومت ادا کرے گی۔‘
عبدالعلیم خان نے کہا کہ ’کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دیں گے، گاؤں میں غریبوں کو گھر بنا کر دیں گے، گاؤں میں سرکاری زمینوں پر 3۔3 مرلے کے پلاٹ بنیں گے، بے روز گار نوجوانوں کو قرضہ دیں گے۔ موقع ملا تو ہر گھر میں صاف پانی پہنچائیں گے، جہانگیر ترین کی سربراہی میں کسانوں پر زیادہ فوکس کریں گے، کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا۔‘

عبدالعلیم خان نے کہا کہ ’کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دیں گے، گاؤں میں غریبوں کو گھر بنا کر دیں گے۔‘ (فوٹو: آئی پی پی)

 اپنے خطاب میں انہوں نے حافظ آباد میں ہسپتال بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت میں آنے کے بعد حافظ آباد میں کارڈیالوجی ہسپتال بنائیں گے، بیروز گار نوجوانوں کے لیے نئی فیکٹریاں لگائیں گے، خواتین کو گھروں میں بیٹھ کر روز گار مل سکے گا۔ ہر یونین کونسلز میں فلٹریشن پلانٹ لگائیں گے۔‘
عبدالعلیم خان نے عمران خان کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جیل میں بیٹھے شخص نے جہانگیر ترین سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا، فائدہ اٹھانے کے بجائے جہانگیر ترین کے بچوں پر مقدمات بنواد دیے، جیل میں جانے والا شخص بڑا بے وقوف تھا۔‘ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ نون پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ’ان لوگوں نے 7 سات بار جھوٹے وعدے کیے۔ عوام کو معلوم ہے کون مخلص اور کون ڈرامے کر رہا ہے۔ اب کی بار ان لوگوں کو اپنے انجام تک پہنچانا ہے۔‘
خیال رہے کہ استحکام پاکستان پارٹی نے انتخابات کی تاریخ سامنے آنے سے قبل بھرپور انتخابی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پارٹی نے انتخابی مہم شروع کرنے کے لیے دوسرے مرحلے کے جلسوں کا شیڈول بھی جاری کر دیا ہے، جبکہ اس سے قبل استحکام پاکستان پارٹی پہلے مرحلے میں 9 دسمبر تک پنجاب کے نو اضلاع کے جلسوں کا پہلے ہی اعلان کر چکی ہے۔
استحکام پاکستان پارٹی نے دوسرے مرحلے میں کامونکی، گوجرانوالہ، قصور اور لیہ میں جلسوں اور ورکرز کنونشنز کا اعلان کیا ہے۔ سیکریٹری اطلاعات استحکام پاکستان پارٹی کے مطابق کامونکی میں 26 نومبر، قصور میں 3 دسمبر اور لیہ میں 17 دسمبر کنونشن منعقد کیے جائیں گے۔ اسی سلسلے میں آج حافظ آباد میں ورکرز کنونشن کا اہتمام کیا گیا تھا۔‘

شیئر: