Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نواز، شجاعت ملاقات، ’دو خاندانوں کے درمیان سیاسی نہیں ذاتی ملاقات تھی‘

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف لاہور میں واقع چوہدری شجاعت کی رہائش گاہ پر 14 سال بعد پہنچے تو چوہدری خاندان میں بہت کچھ تبدیل ہو چکا تھا۔ چوہدری شجاعت کے دونوں صاحب زادوں چوہدری سالک اور چوہدری شافع نے ان کا استقبال کیا۔
نواز شریف اس سے پہلے آخری بار سال 2009 کے فروری کے مہینے میں اس وقت تعزیت کرنے آئے تھے جب چوہدری شجاعت حسین کی والدہ کا انتقال ہوا تھا۔ اس وقت چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی نے ان کا دروازے پر استقبال کیا تھا۔
اس مرتبہ بڑھاپے اور  بیماری کے باعث چوہدری شجاعت اپنے ڈرائنگ روم میں ہی رہے اور ان کے دونوں صاحب زادوں نے دروازے پر میاں نواز شریف کا استقبال کیا۔
ساتھ ہی واقع چوہدری پرویز الٰہی کے گھر میں مکمل خاموشی تھی البتہ ان کے ملازمین نے بیرونی گیٹ کھولنے اور گاڑیوں کو پارک کروانے میں مدد کی۔ نواز شریف، مریم نواز اور شہباز شریف ایک قافلے کی صورت میں الگ الگ گاڑیوں میں چوہدری شجاعت حسین کے گھر پہنچے۔
پاکستان کے مقامی میڈیا نے اس خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا اور اس کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی کہ شاید یہ ن لیگ اور ق لیگ کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے ایک سیاسی ملاقات ہے۔
اس ملاقات میں شریک سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’پتا نہیں کیوں میڈیا اس کو سیاسی رنگ دے رہا ہے۔ یہ ملاقات خالصتا دو خاندانوں کے درمیان ایک ذاتی نوعیت کی ملاقات تھی۔ اور نواز شریف خود چل کر چوہدری شجاعت کی طبیعت دریافت کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ ایک عرصہ علیل رہے ہیں۔ ہم لوگ جیسے ہی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے چوہدری شجاعت نے گرمجوشی سے استقبال کیا اور انہوں نے کہا کہ سب کو اکھٹا گھر میں دیکھ کر انہیں بہت خوشی ہو رہی ہے۔‘

سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان دو نشستوں پر سیٹ ایڈجسمنٹ ہوئی ہے۔ فوٹو: مسلم لیگ ن

چالیس منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے اعظم نزیر تارڑ کہتے ہیں کہ ’یہ یہ خوش گپیوں میں گزرا اور مہمانوں کی تواضع گھر کے پکوانوں سے کی گئی۔ سیاسی بات صرف اتنی ہوئی جب میاں نواز شریف نے چوہدری سالک کی تعریف کرتے ہوئے چوہدری شجاعت کو بتایا کہ وہ سالک کی پچھلی کابینہ میں کارکردگی سے بہت خوش ہیں اور اس بات کی رپورٹ انہیں پہنچتی رہی ہے کہ انہوں نے اپنا کام دل لگی اور محنت سے کیا۔‘
چوہدری شجاعت نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ ’ہم پہلے بھی میاں صاحب کے ساتھ تھے اب بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔‘ 
سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے چلنے والی خبروں سے متعلق اعظم نزیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو ان باتوں کے لیے اتنی بڑے فیملی اکٹھ کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ باتیں تو تب کی طے ہو چکی ہیں جب ق لیگ نے پی ڈی ایم کے ساتھ اتحادی حکومت میں شمولیت کی تھی۔ اور جو طے ہوا تھا ویسے ہی ہو گا۔‘
شریف خاندان اور چوہدری خاندان کے درمیان سیاسی دوریاں بھی البتہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ سابق صدر مشرف کے مارشل لا کے بعد جب ق لیگ اسٹیبلشمنٹ کی کنگز پارٹی بن کر سامنے آئی تو چوہدری برادران نے ن لیگ کو خیرباد کہا اور پانچ سال تک حکومت کی جب شریف برادران پہلے جیل گئے اور پھر ملک بدر کیے گئے۔
دونوں خاندانوں کے درمیان برف پگھلنے اور تعلقات کے دوبارہ استوار ہونے میں دو دہائیوں کا وقت لگا۔ لیکن اس تعلق کی استواری میں بھی چوہدری خاندان خود بکھر گیا۔ چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے صاحب زادے مونس تحریک انصاف کو پیارے ہو گئے تو چوہدری شجاعت نے شریف خاندان کے تعلق کو وہیں سے شروع کیا جہاں سے منقطع ہوا تھا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ انتخابات میں ق لیگ کے ن لیگ کے ساتھ  حصہ بقدرے جثہ کے اصول کے تحت معاملات پہلے ہی طے ہیں۔

شریف خاندان اور چوہدری خاندان کے درمیان سیاسی دوریاں بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ فوٹو: سکرین گریب

سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق ’ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق تو ق لیگ اور ن لیگ کے درمیان دو قومی اور تین صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر معاملات طے ہیں، بہاولپور اور خانیوال کی نشست ق لیگ کو مل چکی ہے لیکن ق لیگ گجرات سے چوہدریحسین الہی کے لیے ایک اور نشست مانگ رہی ہے۔ اس پر ابھی ن لیگ نے کوئی فیصلہ نہیں کیا کیونکہ کوٹلہ کی سیٹ پر ن لیگ کے پاس اپنے بہترین امیدوار ہیں۔‘
ان کا یہ کہنا تھا کہ انتخابی معاملات تو چلتے رہیں گے لیکن نواز شریف کی چوہدری شجاعت کے گھر آمد سے چوہدری پرویز الٰہی کی پوزیشن مزید کمزور ہوئی ہے۔

شیئر: