جنسی جرائم کے عادی برطانوی مجرم کو دُہرے قتل اور زیادتی کے جُرم میں تاحیات قید کی سزا
برطانیہ میں بار بار جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والے ایک شخص سائمن لیوی کو بدھ کے روز تاحیات جیل میں رکھنے کی سزا سنائی گئی۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق سائمن لیوی پر دو خواتین کو قتل کرنے اور ایک خاتون پر شدید تشدد اور اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا جُرم ثابت ہو گیا تھا، پولیس اور پراسیکیوٹرز انہیں مسلسل جرائم کرنے سے روکنے میں ناکام رہے۔
چالیس برس کے سائمن لیوی کو گذشتہ ہفتے کارمینزا ویلنشیا-ٹروجیلو کو مارچ 2025 اور شیرل ولکنز کو اگست 2025 میں قتل کرنے کا مجرم قرار دیا گیا۔
اس کے علاوہ سائمن لیوی پر جنوری 2025 میں ایک تیسری خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی اور اُس پر بدترین تشدد کا جُرم بھی ثابت ہو گیا۔
پولیس نے اس شخص کو خواتین پر جنسی حملوں کے الزام میں متعدد مرتبہ گرفتار بھی کیا تھا۔ مجرم یہ حملے بھیڑ کے اوقات میں چلتی ٹرینوں میں کیا کرتا تھا۔
اپریل 2025 میں انہیں 53 برس کی کارمینزا ویلنشیا-ٹروجیلو کو قتل کرنے کے شبے میں دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔
رہائی کے بعد سائمن لیوی نے مزید پانچ خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور پھر 39 سال کی شیرل ولکنز کو انتہائی بے دردی سے ہلاک کر دیا۔
جج مارک لیوکرافٹ نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ سائمن لیوی ایک ایسا شخص ہے جو اپنی جنسی تسکین کے لیے دوسروں کو بے رحمی سے نشانہ بناتاہے۔
مجرم کو دُہرے قتل کے الزام میں تاحیات جیل بھیجا جاتا ہے، یعنی اسے پیرول پر رہائی کے امکان کے بغیر باقی ساری زندگی جیل میں ہی گزارنا ہو گی۔
اس کے علاوہ اس مجرم کو ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی، اس پر بدترین تشدد کرنے اور جان بوجھ کر اُس کا گلا دبانے کے جرائم میں بھی سزا سنائی گئی۔
رواں برس فروری میں سائمن لیوی کو لندن کی ٹرینوں میں اکتوبر 2023 سے مئی 2025 کے درمیان 10 خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا بھی مجرم قرار دیا گیا تھا۔
ان میں سے چھ حملے مجرم نے 2025 کے ابتدائی مہینوں میں کیے تھے۔ اُن پر اپریل 2022 میں جیل کی ایک افسر کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام بھی ثابت ہو گیا تھا۔
سائمن لیوی کے متعدد جرائم نے پولیس اور پراسیکیوٹرز کی اِن ناکامیوں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں جن کی وجہ سے وہ مزید جرائم کا ارتکاب کرتے رہے۔
لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے 2024 سائمن لیوی کے خطرے کی درجہ بندی کم کر دی تھی جس کے بعد وہ آزادانہ گھومتا رہا اور جرائم کرتا رہا۔
اب میٹروپولیٹن پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ اس مبینہ غفلت پر وہ پولیس واچ ڈاگ کی تحقیقات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اس حوالے سے لندن کے میئر صادق خان کا کہنا ہے کہ اس شخص روکنے کے مواقع بار بار ضائع کیے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ سائمن لیوی کے جرائم اور مختلف اداروں کی ناکامیوں پر صدمے اور غصے میں ہیں، کیونکہ اگر اِن ناکامیوں کو اُسی وقت دُور کر لیا جاتا تو مزید خواتین کو نقصان پہنچنے اور بالآخر قتل ہونے سے بچایا جا سکتا تھا۔
