Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول برقرار رکھنے کا اعلان، ’ہم اسے اپنے پاس رکھیں گے‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا ہے کہ امریکہ سٹریٹجک اہمیت کے حامل آبنائے ہرمز کو کنٹرول کر رہا ہے اور اس کا کنٹرول اپنے پاس رکھے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’امریکہ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم اسے اپنے پاس رکھیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کو ہر کوئی ’فولادی دیوار‘ قرار دے رہا ہے اور ایران اس حوالے سے کچھ نہیں کر سکتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ مشرق وسطیٰ سے توانائی اور دیگر اشیا کی عالمی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔
تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اسے اس آبی گزرگاہ کے بیشتر حصے پر مؤثر کنٹرول حاصل ہے اور وہ 28 فروری کو ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی امریکی جنگ کے جواب میں ٹول سسٹم نافذ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
منگل کی رات کو بھی صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ’اس وقت آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے۔ ان کا کنٹرول نہیں، ہمارا مکمل کنٹرول ہے۔ یہ ہمارا ہے۔‘
تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران کے فوجی اہداف پر بڑے پیمانے پر بمباری کی ہے اور ایرانی قیادت کے کئی اہم افراد بھی مارے گئے ہیں۔ جنگ کے ابتدائی مقاصد میں تہران کو اپنے جوہری توانائی کے پروگرام سے دستبردار ہونے اور حکومت کی تبدیلی پر مجبور کرنا شامل تھا۔
ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں، اسرائیل اور امریکہ کے اتحادی خلیجی ممالک میں مختلف اہداف پر میزائل حملوں کے ذریعے جواب دیا ہے۔
ایران کا سب سے مؤثر ردعمل آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانا رہا ہے، جس کے باعث اس اہم تجارتی راستے پر آمدورفت شدید متاثر ہوئی اور عالمی معیشت میں بے چینی پیدا ہوئی۔
نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکہ میں اپنی سیاسی مقبولیت میں کمی کے باعث ٹرمپ نے جنگ کو مزید بڑھانے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹتے ہوئے فیصلہ کن فتح کے حصول کی کوششیں کم کر دی ہیں۔
اس صورتحال نے جنگ کو ایک تعطل کی کیفیت میں پہنچا دیا ہے۔
تاہم ریپبلکن صدر کا کہنا ہے کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے ’ایکسِیوس‘ کو دیے گئے انٹرویو میں اس حکمت عملی کو ’ لو کیئنگ‘قرار دیا۔
ٹرمپ نے اتوار کو ’ایکسِیوس‘ سے گفتگو میں کہا کہ ’ہم ان کے ساتھ صرف نیم مذاکرات کر رہے ہیں۔ ہم صرف ایران کو دیکھ رہے ہیں، جہاں شدید مہنگائی ہے اور ان کے پاس پیسہ بھی نہیں ہے۔‘

 

شیئر: