Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’دھواں زہریلا بھی ہوسکتا تھا،‘ انڈین پارلیمان میں ہنگامہ آرائی

خیال رہے 13 دسمبر 2001 کو انڈیا کی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا جس میں 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ (فوٹو: پی ٹی وی/ایکس)
انڈیا کی لوک سبھا (پارلیمان کے ایوان زیریں) میں بدھ کو دو افراد گھُس آئے جن کے ہاتھ میں کنستر تھے اور اُن سے زرد دھواں نکل رہا تھا۔
انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پارلیمان کے ہال میں زرد دھواں اڑ رہا ہے اور وہاں بیٹھے اراکین بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق کانگریس کی رُکن کارتی چدم برم کا واقعہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں گھُس آنے والے دونوں افراد کچھ نعرے لگا رہے تھے اور انہوں نے سپیکر کی کُرسی کے پاس پہنچنے کی کوشش کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’دو 20 سالہ نوجوان اچانک مہمانوں کی گیلری سے پارلیمان کے ہال میں کود آئے اور اُن کے ہاتھوں میں کنستر تھے اور ان میں سے زرد دھواں نکل رہا تھا۔‘
کارتی چدم برم کے مطابق ’ان دونوں افراد میں سے ایک نے بھاگ کر سپیکر کی کرسی کی طرف پہنچنے کی کوشش کی اور وہ مسلسل نعرے لگا رہے تھے۔ یہ دھواں زہریلا بھی ہوسکتا تھا اور ایسا 13 دسمبر کو ہونا جس دن 2001 میں پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا سکیورٹی کی ناکامی ہے۔‘
خیال رہے 13 دسمبر 2001 کو انڈیا کی پارلیمان پر حملہ ہوا تھا جس میں 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انڈیا نے اس حملے کی ذمہ داری پاکستانی عسکریت پسند گروہ کالعدم جیش محمد پر عائد کی تھی۔
پارلیمان میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران کچھ اراکین بھاگتے ہوئے نظر آئے اور کچھ نے اندر گھُس آنے والے دونوں افراد کو پکڑنے کی کوشش کی۔
کانگریس کے رُکن پارلیمان گُرجیت سنگھ اُجلا دونوں افراد کو قابو کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’ایک فرد کے ہاتھ میں کچھ تھا جس سے زرد دھواں برآمد ہو رہا تھا۔ میں نے اُس سے وہ چھینا اور پارلیمان ہال کے باہر پھینک دیا۔‘
پارلیمان میں گھُس آنے والے دونوں افراد کو پکڑ کے سکیورٹی اہلکاروں کے حوالے کر دیا گیا۔

پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کرنے والے کون تھے؟

دوسری جانب انڈیا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پارلیمان میں گھُس آنے والے دونوں افراد اور اُن کے دو ساتھیوں کی شناخت کر لی ہے۔
پارلیمان کے اندر سے گرفتار ہونے والوں کی شناخت ساگر شرما اور منورنجن کے نام سے ہوئی جبکہ پارلیمنٹ کے باہر سے حراست میں لیے جانے والوں کے نام انڈین میڈیا کے مطابق امول شندے اور نیلم دیوی ہیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق پولیس ذرائع نے انہیں بتایا کہ گرفتار ہونے والے منورنجن کا تعلق میسور سے ہے اور وہ سٹی کالج میں کمپیوٹر سائنسز کا طالب علم ہے جبکہ نیلم دیوی کا تعلق ہریانہ سے ہے اور وہ سول سروس کے امتحانات کی تیاری کر رہی ہیں۔
نیلم کے بھائی نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بہن وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف ہونے والے کسانوں کے احتجاج کا بھی حصہ تھیں لیکن وہ کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں۔
انڈین میڈیا کے مطابق پارلیمان میں گھُس آنے والے دونوں اشخاص کو داخلہ پاسز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے میسور سے منتخت رُکن پرتاپ سنہا کے دفتر سے جاری ہوئے۔

شیئر: