Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مسجد اور مدرسے پر کسی قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہیے:انڈین وزیر

انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن (آئی آئی سی ایف) کی ڈیویلپمنٹ کمیٹی کے سربراہ اور مہاراشٹر کابینہ کے اقلیتی امور کمیشن کے چیئرمین حاجی عرفات شیخ نے سعودی عرب آمد پر مکہ میں اردو نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ایودھیا میں ’محمد بن عبداللہ مسجد کمپلیکس‘ کی تعمیر کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے سعودی وژن 2030 کی بھی تعریف کی اور اسے مملکت کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے اہم قرار دیا۔
ان سے اس خصوصی انٹرویو میں مسجد کی تعمیر پر بات ہوئی ہے۔

 سوال: ہمارے قارئین جاننا چاہیں گے کہ مسجد کی تعمیر کا بنیادی خیال کیسے آیا؟

جواب: کچھ سال پہلے میرے بڑے اچھے دوست ڈاکٹرعابد، مولانا عبداللہ قمر اور رابطہ مساجد بورڈ کے چیئرمین میرے گھر پر آئے۔ انہوں نے تمام معاملات میرے سامنے رکھے۔ بعدازاں سُنی وقف بورڈ چیئرمین ظفر فاروقی نے بتایا کہ انڈیا کی سب سے بڑی اور عالی شان مسجد کا منصوبہ زیرغور تھا مگر وہ کئی برس سے رکا ہوا ہے۔
’انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ آپ اس میں پہل کریں۔ ان کی جانب سے تمام تفصیلات لینے کے بعد تمام مکاتب فکر کے علما سے میں نے خود ملاقاتیں کیں اور انہیں اس بات پر راضی کیا۔‘
حاجی عرفات شیخ نے کہا کہ ’بعدازاں میں نے ممبئی میں ایک بڑے پروگرام کا اہتمام کیا جس میں تمام شرکا نے متفقہ طور پر کلمہ طبیبہ کی بنیاد پر اس مسجد کی تعمیر کے لیے کام شروع کرنے کا آغاز کیا اوراسی اجلاس میں مسجد کا نام (مسجد محمد ﷺ بن عبداللہ) تجویز کیا گیا جس پر کسی کو کوئی اختلاف نہیں تھا۔‘

سوال: کس حد تک آپ کو ہندوستان کے علمائے دین کی حمایت حاصل ہے، کیا کچھ ایسے علما بھی ہیں جو اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے؟

جواب: جی ہاں، کچھ علمائے دین کو اس حوالے سے اختلاف تھا، ان کا کہنا تھا کہ مسجد کے بدلے میں مسجد نہیں ہو سکتی، اس بارے میں ان سے بات کی گئی اور انہیں سمجھایا گیا کہ جو بات وہ کر رہے ہیں اس طرح نہیں ہے کیونکہ جو زمین سپریم کورٹ نے دی ہے اس پر نہیں بلکہ وہ اضافی زمین جو ہم نے خریدی تھی اس زمین پر مسجد کی تعمیر کی جائے گی۔ یہ بات واضح ہونے پر بہت سے لوگوں کی غلط فہمی دور ہوئی اور وہ ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔

سوال: مسجد کی تعمیر کے لیے اندازاً کتنا بجٹ تجویز کیا گیا ہے؟ فنڈ کہاں سے حاصل کیا جائے گا؟ کیا حکومتی ذرائع سے یا عطیات مہم کے تحت تعاون حاصل کیا جائے گا؟

جواب: مسجد کی تعمیر کے لیے تاحال کوئی بجٹ مخصوص نہیں کیا گیا۔ جب تک منصوبے پر ماہر تعمیرات کی جانب سے ابتدائی معلومات حاصل نہیں ہو جاتیں بجٹ کے بارے میں کوئی بات واضح طورپر نہیں کی جا سکتی۔
جہاں تک بات ہے رقم کے حصول کی یہاں میں مختصر طورپر یہ کہوں گا کہ مسجد کے لیے ایک ویب سائٹ بنائی جائے گی جس کے ذریعے عطیات حاصل کیے جا سکیں گے۔‘
انٹرویو کے دوران حاجی عرفات شیخ نے مزید کہا کہ ’ہمارا منصوبہ ہے کہ مسجد کی تعمیر کے لیے ہماری جانب سے کوئی بھی ’چندہ بک‘ لے کر کسی کے پاس نہیں جائے گا بلکہ ویب سائٹ پر مسجد کا نقشہ اور ماڈل اپ لوڈ کیا جائے گا۔ ویب سائٹ پر کیو آر کوڈ ہو گا جسے سکین کرنے کے بعد عطیہ دینے والے کے موبائل پر رسید ارسال کر دی جائے گی جس میں کہا جائے گا  شکریہ آپ کی دی ہوئی امانت ہمیں موصول ہو گئی ہے۔‘
مسجد کی عمارت کی تعمیر میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا، صحن میں فوارہ تعمیر کیا جائے گا جو اذان کی آواز کے ساتھ بلند ہو گا۔ مسجد کے اطراف میں سبزہ زار ہو گا جو اس عمارت کی خوبصورتی کو چار چاند لگائے گا۔
یہاں یہ ذکر بھی کرتا چلوں کہ ہمارا منصوبہ ہے کہ مسجد کے اطراف میں جو کمپلیکس تعمیر کیا جائے گا اس میں میڈیکل و ڈینٹل کالجز، لا کالج اور انٹرنیشنل سکول کے علاوہ مفت علاج کے لیے تمام تر طبی ضروریات سے مزین ہسپتال بھی قائم ہو گا۔
فلاحی کچن کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر تین سے پانچ ہزار افراد کے لیے مفت تین وقت کے کھانے کا بھی انتظام کیا جائے گا۔ علاج اور کھانے کے لیے کسی قسم کی کوئی تخصیص نہیں کی جائے گی۔ ہر ضرورت مند کی انسانیت کی بنیاد پر خدمت کی جائے گی۔

سوال: مسجد میں کتنے نمازیوں کی گنجائش ہو گی؟

جواب: مجوزہ مسجد کی عمارت کے اندر تقریباً بیک وقت 9 ہزار افراد جماعت کے ساتھ نماز ادا کر سکیں گے جبکہ عیدین کی نماز کے لیے بیرونی صحنوں اور مسجد سے ملحق سبزہ زاروں کو ملا کر 50 ہزار سے زائد افراد کی گنجائش ہو گی۔ مسجد کی عمارت کے بارے میں مختصر طور پر یہ بتاتا چلوں کہ ہم نے مسجد کے پانچ مینار بنائے ہیں جو کہ اسلام کے پانچوں ارکان کی نشاندہی کرتے ہیں۔

سوال: آپ نے کہا کہ مسجد کے اطراف میں ہسپتال اور کالجز بنائے جائیں گے، اس حوالے سے یہ بتائیں کہ اس کا انتخاب کیوں کیا یعنی مسجد کے ساتھ دوسرے منصوبے کا کیا مقصد ہے، کیا آپ ایک طرح سے سمارٹ سٹی بنانے جا رہے ہیں؟

جواب: دیکھیں اسلام کا آغاز لفظ ’اقرا‘ سے ہوا یعنی پڑھو، اس حوالے سے یہ کہوں گا کہ مسجد محمد بن عبداللہ ایک ایسی انمول مسجد ہو گی جہاں دین و دنیا کو ساتھ لے کر چلیں گے اور بہترین معاشرے کی تخلیق وہاں سے ہو گی۔ اگر یوں کہوں کہ ’دعا اور دوا‘ دونوں کا بندوبست ہو گا۔ اس کے لیے کسی قسم کی کوئی تخصیص نہیں ہو گی یعنی کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے رجوع کر سکتے ہیں انہیں مفت علاج اور طعام کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

سوال: کیا اس منصوبے کے حوالے سے اویس الدین اویسی اور دیگر کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی ہے؟

جواب: دیکھیں وہ ایک بڑے سیاست دان ہیں ان کا بڑا نام ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ متفقہ طور پر تعمیر ہونے والی مسجد میں ایک اینٹ حاجی عرفات شیخ کو رکھنے دیں اورایک اینٹ آپ بھی لائیں، یہ مسجد محمد بن عبداللہ کے نام سے قائم کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ملک میں برکت آئے گی۔ میری یہی رائے ہے کہ مسجد اور مدرسے پر کسی قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ میرا سب سے یہ کہنا ہے کہ محبت اور یکجہتی کا پیغام پہنچائیں اور اختلافات کو ختم کریں۔ میں ہر ایک کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیے اور ہمارا ساتھ دیں اور اس اہم کام کا ساتھ دیں۔

سوال: مسجد کی تعمیر کے لیے جو اینٹ آپ لائے ہیں اس کی خاص بات کیا ہے؟

جواب: مسجد محمد بن عبداللہ کے نام سے تعمیر کی جانے والی مسجد کے لیے ماڈل اینٹ جو آپ دیکھ رہے ہیں اس کے ذریع وہ اس مسجد کی تعمیر میں اپنا حصہ شامل کر سکتے ہیں۔ اینٹ کا عطیہ ایک لاکھ انڈین روپے مقرر کیا گیا ہے۔ فوت شدگان کے لیے بھی اینٹیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ عطیہ کی گئی اینٹ میں پیتل کی ایک ’پلیٹ‘ ہو گی جس میں عطیہ دینے والے کا نام کنندہ ہو گا۔
اینٹ ہمیشہ کے لیے مسجد کی تعمیر میں محفوظ ہو جائے گی۔ ہراینٹ کا مخصوص نمبر ہو گا جبکہ اینٹ کا عطیہ دینے والے کو ایک سرٹیفیکٹ بھی دیا جائے گا۔ اگر مستقبل میں کبھی مسجد کی تعمیر یا توسیع و دیگر تزئین کے حوالے سے تعمیراتی کام کیا جائے گا تو اینٹ پر درج نمبر کے ذریعے عطیہ دینے والے کا مکمل ڈیٹا موجود ہو گا اوراسی اینٹ کو دوبارہ نئی تعمیرمیں نصب کر دیا جائے گا۔

سوال: سعودی عرب کے وژن 2030 جسے ولی عہد مملکت شہزادہ محمد بن سلمان نے متعارف کرایا، اس حوالے سے سعودی عرب اور انڈیا کے تعلقات کے بارے میں کیا کہیں گے؟

جواب: جی ہاں ، شہزادہ محمد بن سلمان کے مثالی خیالات ہیں۔ انہوں نے جو وژن پیش کیا جس کا مقصد مملکت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا اور دنیا میں امن و بھائی چارے کو فروغ دینا ہے۔
انڈیا کے ساتھ اور انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور اسی طرح ہر ملک کے ساتھ ان کے مثالی تعلقات کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔

سوال: آپ کیا کہیں گے کہ کیا انڈین مسلمان آج انڈیا میں محفوظ ہیں؟

جواب: جی ہاں انڈین مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ بعض میڈیا میں انڈین مسلمانوں کے حوالے سے جو ظلم و ستم کے بارے میں بتایا جاتا ہے وہ قطعی طور پر غلط ہے۔ میں یہی کہوں گا کہ انڈین مسلم مکمل طور پر محفوظ ہیں اور تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ترقی کر رہے ہیں اور ملک کو بھی ترقی دے رہے ہیں۔

سوال: بعض علاقوں میں مسلمانوں کو پیش آنے والے مسائل کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

جواب: دیکھیں ہر جگہ کچھ نہ کچھ مسائل ہوتے ہیں، کچھ ہندؤوں میں بھی انتہا پسند ہوتے ہیں اسی طرح مسلمانوں میں بھی ایسے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے چھوٹا معاملہ بڑا بن جاتا ہے۔
ایسے تنازعات پر کنٹرول کرنے کے لیے سرکاری سطح پر رہنماؤں کو سامنے لایا جاتا ہے تاکہ معاملے کو بہتر طور پر حل کیا جا سکے اور ملک کا نام خراب نہ ہو۔ اسی حوالے سے تمام رہنما کام کر رہے ہیں۔

شیئر: