Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’زبردستی الیکشن جتوانے کی خبر غلط‘ آزاد امیدوار جاوید اختر کی وضاحت

پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 286 اور این اے 184 ڈیرہ غازی خان سے آزاد امیدوار جاوید اختر لُنڈ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس کے عنوان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں زبردستی دھاندلی کے ذریعے الیکشن جتوایا گیا ہے۔
متعلقہ ویڈیو مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر نیا پاکستان نامی اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی، جو اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے۔ 
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آزاد امیدوار جاوید اختر صوفے پر بیٹھے بیان ریکارڈ کروا رہے ہیں۔ 
جس اکاؤنٹ سے یہ پوسٹ شیئر کی گئی اس پر عنوان درج ہے کہ ’مجھے زبردستی جتوایا گیا ہے، میرا مخالف امیدوار سردار  فرحت (پی ٹی آئی) جیتا ہوا تھا، جیتے ہوئے کو ہرانا عوام کےمینڈیٹ کی توہین ہے۔ آزاد امیدوار جاوید لُنڈ کا جعلی مینڈیٹ لینے سے انکار، دھاندلی کی مذمت، پی ٹی آئی امیدوار کو مبارک باد دے دی۔‘
اردو نیوز نے جب معاملے کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اس خبر میں صداقت نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن کے جاری کردہ حلقہ پی پی 286 اور این اے 184 کے فارم 47 کے مطابق جاوید اختر دونوں حلقوں سے ہار رہے ہیں اور زبردستی جیتنے کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں۔ 

حلقہ پی پی 286 سے جاوید اختر 17265 ووٹ لے کر تیسری پوزیشن پر رہے، جبکہ حلقہ این اے 184 میں جاوید اختر صرف 507 ووٹ حاصل کرسکے تھے۔

جاوید اختر لُنڈ نے خود بھی اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے وضاحت کی ہے کہ یہ خبر جھوٹی ہے۔
اپنی پوسٹ میں وائرل سکرین ساٹش شیئر کرتے ہوئے جاوید اختر نے لکھا کہ ’میڈیا پر چلائی جانے والی خبر کی تصحیح کرنا چاہوں گا۔ میرا ن لیگ سے کوئی تعلق نہیں میں پی ٹی آئی کا حصہ تھا۔‘
’ٹکٹ نہ ملنے پر میں نے ن لیگ کے خلاف آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا اور میں نے ویڈیو میں اپنے نہیں بلکہ ن لیگ کے امیدوار کو پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کے خلاف جتوانے کے بات کی ہے۔‘
انہوں نے مزہد کہا کہ ’اس کی میں پُرزور مذمت کرتا ہوں، تمام دوستوں سے گزارش ہے اس کی درستی کر لیں۔‘
واضح رہے کہ جاوید اختر آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے تھے اور انہیں پاکستان تحریک انصاف کی حمایت حاصل نہیں تھی۔

شیئر: