Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ میں ’سینگوں والے ڈراؤنے خرگوشوں‘ کی تصاویر وائرل، حقیقت کیا ہے؟

سوشل میڈیا پر ان خرگوشوں کی تصاویر وائرل ہوئیں تو لوگوں نے مختلف ڈراؤنے نام رکھ دیے (فائل فوٹو: گیٹی)
امریکہ کی ریاست کولوراڈو میں ان دنوں کچھ خرگوش لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، کیونکہ ان کے سروں پر سینگ جیسے عجیب ابھار نظر آرہے ہیں۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق یہ منظر دیکھ کر لوگ انہیں ’فرینکنسٹائن خرگوش‘ یا ’ڈراؤنے خرگوش‘ جیسے نام دے رہے ہیں۔
فورٹ کولنز شہر میں نظر آنے والے یہ خرگوش دراصل کوئی خوفناک مخلوق نہیں بلکہ ایک عام وائرس کا شکار ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان خرگوشوں کو شوپ پیپیلوما وائرس نامی وائرس لاحق ہے، جو ان کے چہرے پر مسّے جیسی گلٹیاں بنا دیتا ہے۔ جب یہ گلٹیاں بڑی ہو جاتی ہیں تو سینگوں جیسی دکھائی دیتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ان خرگوشوں کی تصاویر وائرل ہوئیں تو لوگوں نے مختلف مزاحیہ اور ڈراؤنے نام رکھ دیے، لیکن حقیقت میں یہ کوئی نئی یا خطرناک چیز نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس کئی برسوں سے موجود ہے اور اسی کی وجہ سے پرانی کہانیوں میں ’سینگ والے خرگوش‘ (جیکالوپ) کا ذکر بھی ملتا ہے۔
یہ وائرس انسانوں یا پالتو جانوروں کے لیے خطرناک نہیں ہے اور صرف خرگوشوں تک محدود رہتا ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں خرگوش خود ہی اس وائرس کا مقابلہ کر لیتے ہیں اور وقت کے ساتھ یہ گلٹیاں ختم ہو جاتی ہیں۔
حکام کے مطابق گرمیوں میں ایسے کیسز زیادہ نظر آتے ہیں، کیونکہ اس موسم میں پسو اور چیچڑ زیادہ ہوتے ہیں جو اس وائرس کو پھیلاتے ہیں۔
لہٰذا اگر آپ کو ایسا کوئی خرگوش نظر آئے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں، یہ صرف ایک عام بیماری ہے، کوئی ڈراؤنی یا خطرناک چیز نہیں۔
 

شیئر: