سعودی عرب میں ’چیکو‘ کی کاشت جو زرعی معیشت کو فروغ دے رہی ہے
جمعرات 16 اپریل 2026 0:03
جازان کے ماحول اور علاقے کی زرخیزی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔(فوٹو: ایس پی اے)
جازان ریجن کا زرخیز خطہ ’چیکو‘ کی کاشت کے حوالے سے بھی نمایاں ہے اور زرعی معیشت کو فروغ دے رہا ہے۔
یہ پھل دراصل وسطی امریکہ کا ہے، جو جازان کے ماحول اور علاقے کی زرخیزی کے ساتھ ہم آہنگ ہوگیا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق چیکو کی کامیاب کاشت کو دیکھتے ہوئے علاقے کے متعدد کسان اس کی کاشت کو وسعت دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس سے مسلسل پیداوار، غذائی تحفظ اور معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
یہ سدابہار، طویل عمر اور درمیانے سائز کا درخت ہے، اس کی بلندی 20 میٹر کے قریب ہوتی ہے۔ اس کا پھل نرم، میٹھا اور گودے دار بھورا ہوتا ہے، اس کا ذائقہ براون شوگر جیسا ہوتا ہے، جو مقامی مارکیٹ میں پسند کیا جاتا ہے۔
مملکت کے مختلف ماحول میں اس کا کاشت کامیابی سے کی گئی، یہ درخت گرم اور خشک ماحول میں نشوونما پانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ مختلف درجہ حرارت کو برداشت کرنے کی قدرت کا حامل ہے۔

یہ درخت، عام طور پر چار سے پانچ برس میں پھل دینے لگتا ہے، اسے پھیلانے کے لیے پیوند کاری بھی کی جاتی ہے، جیسے آم و دیگر درختوں میں کی جاتی ہے تاکہ اس کے پھل کے معیار کو بہتر کیا جاسکے۔
سال میں دو مرتبہ یہ درخت پھل دیتا ہے۔ پہلا سیزن مارچ سے اپریل اور جون تک ہوتا ہے جبکہ دوسرا سیزن ستمبر سے شروع ہو کر دو ماہ تک جاتا ہے۔
چیکو کے درخت کی پھل دینے کی صلاحیت 25 سے 30 برس ہوتی ہے، جبکہ بعض فارمز میں 20 برس قدیم درخت بھی موجود ہیں۔ ایک درخت سے نصف ٹن سے کچھ کم فصل حاصل کی جاتی ہے۔

زرعی نگہداشت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے’ چیکو کے درختوں کی دیکھ بھال کے لیے باقاعدہ منظم منصوبے پرعمل کیا جاتا ہے۔ اسے پانی کی مناسب مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔‘
چیکو کے ایک کاشتکار عاصم الاھدل کا کہنا تھا’ جازان میں چیکو کی کاشت ایک امید افزا آپشن ہے، کیونکہ یہ مقامی ماحول اور آب و ہوا میں نشوونما پاتا ہے۔‘
وزارت ماحولیات، پانی و زراعت کی جانب سے بھی جازان ریجن کے کاشتکاروں کو ہرطرح کی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
