Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اے آئی انڈیکس‘ سعودی عرب، سکیورٹی، پرائیویسی اور کرپٹو گرافی میں سرفہرست

مملکت مصنوعی ذہانت میں خواتین کو با اختیار بنانے میں بھی آگے ہے۔( فوٹو: اے ایف پی)
 مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سعودی عرب، سکیورٹی، پرائیویسی اور کرپٹوگرافی (خفیہ یا اشاراتی عبارتوں کو تحریر میں لانے کا فن) میں دنیا میں سب سے آگے ہے۔ مملکت مصنوعی ذہانت میں خواتین کو با اختیار بنانے میں بھی سرِ فہرست ہے۔
یہ بات ’سٹینفورڈ یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ فار ہیومن سینٹرڈ آرٹیفیشل انٹیلیجینس‘ کی سالِ رواں کی ’اے آئی انڈیکس‘ کی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے مُوجِدوں اور لکھاریوں میں سعودی عرب، خواتین کی نمائندگی کے لحاظ سے عالمی سطح پر بھی پہلے نمبر پر ہے۔ اس شعبے میں سعودی عرب میں خواتین کی شرح 32.3 فیصد ہے۔ آسٹریلیا میں یہ شرح 30.1 فیصد اور کینیڈا میں 29.6 فیصد ہے۔ دنیا میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں صنفی امتیاز کو مدِ نظر رکھا جائے تو سعودی عرب میں اس شرح کا بہتر ہونا خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے مُوجدوں کو سپیشلائزیشن کے مختلف شعبوں کے ایک وسیع سلسلے میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
عام شعبوں میں ہیلتھ کیئر اور بائیوانفارمیٹکس ( علم کے مختلف شعبوں کا میدان جہاں حیاتیات، کمپیوٹر سائنس، ریاضی اور شماریات کو یکجا کر کے پیچیدہ حیاتیاتی ڈیٹا کا تجزیہ اور تشریح کی جاتی ہے)، کمپیوٹر وژن ( مصنوعی ذہانت کا ایک شعبہ جو دنیا بھر میں کمپیوٹروں کو تشریح، تجزیے اور تصاویر اور وڈیوز کے ذریعے بصری ڈیٹا کی تفہیم سکھاتا ہے)،

امیج پروسیسنگ (کمپیوٹر کی مدد سے تصاویر کو بہتر بنانا یا ان سے معلومات حاصل کرنا) اور سافٹ ویئر انجنیئرنگ شامل ہیں جہاں کئی ممالک سے تقریباً دس فیصد یا اس شرح سے بھی کچھ زیادہ افراد پائے جاتے ہیں۔
سکیورٹی، پرائیویسی اور کرپٹوگرافی  کے شعبوں میں کام کرنے والے مُوجِدوں کا تعلق سب سے زیادہ سعودی عرب سے یعنی 15 فیصد ہے۔ اس کے بعد انڈیا کا نمبر ہے جہاں انہی شعبوں میں تیرہ فیصد جبکہ متحدہ عرب امارات میں بارہ فیصد افراد پائے جاتے ہیں۔
ممکت اُن چند ملکوں میں شامل ہے جہاں مصنوعی ذہانت کے ٹیلنٹ کا بہاؤ مثبت ہے جسے یونیورسٹی کی رپورٹ میں اِس فرق کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو مصنوعی ذہانت کے اُن موجدوں اور مصنفوں میں پایا جاتا ہے جو کسی ملک میں آتے یا وہاں سے جاتے ہیں۔

سعودی عرب میں مصنوعی ذہانت کے ٹیلنٹ میں تیز ترین رفتار سے نشو و نما ہوئی ہے جو کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ سنہ 2019 اور سنہ 2025 کے درمیان یہ شرح 100 فیصد سے بھی زیادہ رہی۔
رپورٹ کے مطابق ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ملازمین مصنوعی ذہانت کو اپنے کام کے لیے استعمال کرنے میں سب سے متحرک ہیں۔ سعودی عرب، انڈیا اور متحدہ عرب امارات میں 80 فیصد رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ وہ مصنوعی ذہانت کو اپنے کام کے لیے باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں۔ ان تینوں ممالک کے افراد کی اِس ٹیکنالوجی پر بھروسے کی سطح بھی دیگر ممالک کے افراد سے زیادہ بلند ہے۔
اگر اِس کا مقابلہ شمالی امریکہ اور یورپ سے کیا جائے تو بہت واضح فرق نظر آتا ہے جہاں کام کرنے والوں کی نصف تعداد باقاعدگی سے مصنوعی ذہانت کے آلات کو کام میں لاتی ہے۔ وہاں اُس ٹیکنالوجی پر بھروسے کی سطح بھی 40 سے 48 فیصد تک ہے۔

مملکت میں یونیورسٹی کے طلبہ کا مصنوعی ذہانت کی اُس قسم کو اپنانا بھی، جو موجود ڈیٹا سے ظاہر ہونے والے نمونوں سے سیکھ کر نیا مواد تخلیق کرتی ہے، سعودی عرب کو عالمی سطح پر سب سے اوپر کے درجے پر لے گیا ہے جہاں یہ شرح 89 فیصد ہے جبکہ امریکہ اور برطانیہ میں یہ شرح 67 فیصد تک ہے۔
رپورٹ میں سعودی عرب کی اُن کوششوں کو اجاگر کیا گیا ہے جو مملکت میں مصنوعی ذہانت کے ماحولی نظام کو وسعت دینے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
اِن میں ’ایمزن ویب سروسر‘ کی پانچ بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری اور سعودی حکومت کے تعاون سے چلنے والی ’ہیومین‘ کمپنی جیسے انشیٹیو شامل ہیں جن کا مقصد مملکت میں ’مصنوعی ذہانت کا زون‘ قائم کرنا ہے۔

 

شیئر: