Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران اور امریکہ کی ایک دوسرے کو دھمکی

امریکی سفارت کار نے کہا کہ سکیورٹی کونسل ایران کے اقدامات پر اس سے جواب طلبی کرے۔ فوٹو: اے ایف پی
ایران نے کہا ہے کہ اس کا خطے میں امریکہ سے عسکری طور پر اُلجھنے کا کوئی ارادہ نہیں لیکن اگر واشنگٹن نے اس کے خلاف، اس کے شہریوں یا اس کے سکیورٹی مفادات کے خلاف کوئی فوجی کارروائی شروع کی تو ’تہران متناسب ردعمل کا اپنا موروثی حق استعمال کرے گا۔‘
عرب نیوز کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایرانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس کو بتایا کہ ان کے ملک نے سنیچر کو اسرائیل پر حملے میں ’صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا اور حملے میں احتیاط برتی گئی تاکہ کشیدگی کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے اور شہریوں کو نقصان نہ ہو۔‘
دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کے جواب میں ایران نے سنیچر کو اسرائیل پر درجنوں ڈرون اور میزائل داغے۔
دمشق پر حملے میں دو جرنیلوں سمیت ایران کی پاسداران انقلاب کے سات اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ ایران نے خبردار کیا تھا کہ یکم اپریل کو ہونے والے اس حملے کی اسرائیل کو ’سزا‘ دی جائے گی۔
ایرانی حملے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست اسرائیل نے کی تھی۔
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مستقل نمائندے گیلاد اردان نے کونسل کے اراکین کو بتایا کہ وہ ’واضح طور پر ایران کی مذمت کریں اور فوری طور پر ایران کے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے کارروائی کریں۔‘
ایران نے کہا تھا کہ سنیچر کا حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق تھا، جس میں کہا گیا ہے کہ ’اگر اقوام متحدہ کے کسی رکن پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اس کے انفرادی یا اجتماعی دفاع کے موروثی حق کو تسلیم کیا گیا ہے، جب تک کہ سلامتی کونسل ایسے اقدامات نہ کرے جو بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔‘
سلامتی کونسل میں امریکی نمائندے رابرٹ ووڈ نے خبردار کیا کہ ’اگر ایران یا اس کی پراکسیز نے امریکہ کے خلاف کارروائی کی یا اسرائیل کے خلاف مزید کارروائی کی گئی تو ایران ذمہ دار ہوگا۔‘
ووڈ نے سخت ترین الفاظ میں ’ایران اور اس کی عسکری پراکسیوں اور شراکت داروں‘ کی طرف سے اسرائیل پر حملے کی مذمت کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ’غیرذمہ دارانہ کارروائیوں‘ سے نہ صرف اسرائیل کی آبادیوں کو بلکہ خطے میں اقوام متحدہ کے دیگر رکن ممالک بشمول اردن اور عراق کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
امریکی سفارت کار نے کہا کہ ’سکیورٹی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایران کے اقدامات پر اس سے جواب طلبی کرے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ایران نے طویل عرصے سے پاسداران انقلاب کے ذریعے حزب اللہ کو مسلح کر کے اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی کی ہے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر حوثیوں کے حملوں میں سہولت کاری اور ان کو فعال کرنا اور حال ہی میں بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے پیچھے عناصر کی پشت پناہی بھی یہی قوت کر رہی ہے۔‘

امریکی مندوب نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح انداز میں ایران کے حملے کی مذمت کرے۔ فوٹو: اے ایف پی

سلامتی کونسل میں امریکی مندوب کا یہ بھی کہنا تھا کہ حماس کو ایران سے تربیت اور فنڈنگ ملتی ہے جس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’امریکہ مزید ایسے اقدامات کرے گا جن کے ذریعے اقوام متحدہ میں ایران کا احتساب کیا جائے۔‘
امریکی مندوب نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح انداز میں ایران کے حملے کی مذمت کرے اور ’اس کے پارٹنرز اور پراکسیز سے حملے بند کرنے‘ کا مطالبہ کرے۔
اسرائیلی مندوب نے ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کا موازنہ جرمنی کے ہٹلر سے کیا اور کہا کہ ’عالمی طور پر شیعہ تسلط کے قیام کے لیے اس نے سعودی عرب پر حملہ کیا، آرامکو تیل کی تنصیبات اور متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنایا جن کو وہ اپنے مقصد کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر دیکھتا ہے۔‘
انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ ’ایران پر پابندیاں عائد کی جائیں اس سے قبل کہ دیر ہو جائے۔‘

شیئر: