Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ کا نائجیریا میں داعش کے خلاف ’طاقتور اور مہلک فضائی حملہ‘

صدر ٹرمپ نے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تفصیل نہیں بتائی (فوٹو: اے پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے نائجیریا میں داعش سے وابستہ عناصر کے خلاف ایک ’طاقتور اور مہلک‘ فضائی حملہ کیا ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ان کارروائیوں سے قبل صدر ٹرمپ کی جانب سے نائجیرین حکومت پر مسیحیوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کو روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔
جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’دی ٹرتھ‘ پر ایک پوسٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائجیریا کی شمال مغربی ریاست سوکوٹو پر حملوں کی تفصیلات یا نقصانات کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا ہے کہ ’امریکہ نے یہ کارروائیاں نائجیریا کے ساتھ مل کر کیں اور ان کی منظوری ابوجا نے دی تھی۔‘

نائجیریا میں امریکی اہداف

نائجیریا کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’اس تعاون میں انٹیلیجنس کا تبادلہ اور سٹریٹجک رابطہ کاری شامل تھی جو بین الاقوامی قانون، خودمختاری کے باہمی احترام اور علاقائی و عالمی سلامتی کے مشترکہ عزم کے مطابق ہے۔‘
اے پی کی رپورٹ کے مطابق ان حملوں کے اثرات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

نائجیریا میں سرگرم شدت پسند گروہ

نائجیریا اس وقت کئی مسلح گروہوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے جن میں کم از کم دو داعش سے منسلک شدت پسند گروہ شامل ہیں۔
ان میں شمال مشرق میں سرگرم بوکو حرام کا ذیلی گروہ ’اسلامک سٹیٹ ویسٹ افریقہ پروونس‘ اور شمال مغربی ریاستوں میں فعال کم معروف ’لاکوروا‘ شامل ہے، جہاں یہ گروہ جنگلات کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق امریکی حملوں کا ہدف ممکنہ طور پر ’لاکوروا‘ گروپ ہو سکتا ہے جو گزشتہ ایک برس کے دوران زیادہ مہلک ثابت ہوا ہے اور اکثر دور دراز آبادیوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتا رہا ہے۔
نائجیریا سے تعلق رکھنے والے ’سکیورٹی اینڈ گڈ گورننس افریقہ‘ کے ساتھ منسلک محقق ملک سیموئل کا کہتے ہیں کہ ’لاکوروا ایک ایسا گروہ ہے جو نائجیریا میں، خاص طور پر سوکوٹو اور کیبی جیسی ریاستوں کے مختلف علاقوں پر کنٹرول حاصل کر رہا ہے۔‘
ان کے مطابق ’شمال مغربی علاقوں میں ’نظریاتی بنیادوں پر کام کرنے والے پرتشدد انتہا پسند گروہوں کی دراندازی ریاستی رِٹ اور سیکیورٹی فورسز کی عدم موجودگی کا نتیجہ ہے۔‘
صدر ڈونلڈ  ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فضائی حملے داعش کے ان جنگجوؤں کے خلاف کیے گئے ہیں ’جو بنیادی طور پر بے گناہ مسیحیوں کو نشانہ بنا کر بے رحمی سے قتل کر رہے ہیں۔ تاہم مقامی رہائشیوں اور ماہرین کے مطابق نائجیریا میں سکیورٹی بحران کا اثر مسیحیوں اور مسلمانوں دونوں پر پڑ رہا ہے۔
نائجیریا میں عیسائی زیادہ تر جنوب میں جبکہ مسلمان اکثریتی علاقے شمال میں واقع ہیں۔
نائجیریا کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’دہشت گردی کسی بھی شکل میں ہو، چاہے اس کا ہدف مسیحی ہوں، مسلمان ہوں یا دیگر برادریاں ہوں، یہ نائجیریا کی اقدار اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک چیلنج ہے۔‘
نائجیریا کی حکومت اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ کی تنقید کے جواب میں یہ موقف اختیار کر چکی ہے کہ انتہا پسند گروپوں کے حملوں میں صرف عیسائی ہی نہیں بلکہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد متاثر ہوئے ہیں۔

شیئر: