سعودی گاؤں ’ذی عین‘ میں سال بھر پانی کا بہاؤ کیوں جاری رہتا ہے؟
سعودی عرب کے الباحہ ریجن کے علاقے المخواہ میں واقع ایک گاؤں، جس کا نام ذی عین ہے، میں سال بھر پانی کا بہاؤ جاری رہتا ہے، لیکن اس کے پیچھے قدیم زمانے کی آبپاشی کی ایک ترکیب کارفرما ہے۔
ہوتا یوں ہے کہ پانی، القلہ نامی ایک قدرتی چشمے سے بل کھاتا ہوتا اور مختلف راستوں سے گزرتے ہوئے گاؤں کے اس مقام تک پہنچ جاتا ہے جو بلند ترین ہے۔
اس مقام سے پانی، پہاڑوں اور پتھروں کے درمیان پیچیدہ طریقے سے بنائے گئے راستوں سے واپس ہونا شروع ہوتا ہے لیکن اس میں انتظام کا پہلو یہ ہے کہ پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے بھی قدیم طریقے استعمال کیے گئے ہیں۔
اس طرح قدرتی چشمے کا یہ پانی چھوٹی چھوٹی آبشاروں کی شکل میں گھروں اور زرعی قطعات تک جا پہنچتا ہے۔

اس اہم ذریعے کا بندوبست کرنے کے لیے ذی عین گاؤں کے رہنے والوں نے انتہائی ترقی یافتہ اور جدید انداز میں پانی کی تقسیم کے طریقے ایجاد کر لیے ہیں۔
اس میں سے سب سے اہم طریقہ، آبپاشی کے لیے ایک دائرے کے اندر رہتے ہوئے استعمال ہونے والا روایتی طریقہ ہے جسے ’الاطواف‘ کہتے ہیں۔
اس طریقے میں پانی کی مساوی تقسیم کے لیے بارہ راستے استمعال کیے جاتے ہیں جو گاؤں کے گھروں اور کھیتوں کے لیتے ہمیشہ وقتِ معینہ پر پانی لے کر آتے ہیں۔

پانی کے انتظام کا یہ روایتی طریقہ، آبی بہاؤ کو سنبھالے رکھتا ہے جس پر نہ آب و ہوا کی اونچ نیچ کوئی اثر ڈالتی ہے اور نہ بارش کی کمی ہی اس کو متاثر کرتی ہے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ذی عین گاؤں کے رہنے والے اپنے علاقے کی مخصوص فصلوں کی کاشت کاری پائیداری کے ساتھ کر رہے ہیں۔ ان فصلوں میں کیلا اور کافی کی کاشت قابلِ ذکر ہیں۔

ذی عین گاؤں کے لوگوں کے لیے پانی کا یہ عزیز ترین ورثہ، ان کی شناخت کا ایک ایسا حصہ ہے جس سے وہ الگ نہیں ہو سکتے۔ اس ورثے کی جھلک مقامی رسم و رواج اور لوگ گیتوں میں صاف طور پر دکھائی دیتی ہے۔
ذی عین کا پانی اور اس پانی کا روایتی استعمال ایک گہرا ثقافتی اور ماحولیاتی اثاثہ ہے جو اس گاؤں کی کی حیات اور زراعت کے لیے صدیوں سے تعاون کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
