تائیوان کو اسلحے کی فروخت، چین نے 20 امریکی دفاعی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں
تائیوان کو اسلحے کی فروخت، چین نے 20 امریکی دفاعی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں
جمعہ 26 دسمبر 2025 15:34
چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق ’تائیوان کا مسئلہ چین۔امریکہ تعلقات میں وہ پہلی سرخ لکیر ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔‘ (فوٹو: روئٹرز)
چین کی وزارتِ خارجہ نے نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاملے پر 10 افراد اور 20 امریکی دفاعی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں بوئنگ کی سینٹ لوئس شاخ بھی شامل ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ ان اقدامات کے تحت چین میں ان کمپنیوں اور افراد کے موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے، جبکہ ملکی اداروں اور افراد کو ان کے ساتھ کاروبار کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
پابندیوں کی فہرست میں شامل افراد، جن میں دفاعی کمپنی اینڈورِل انڈسٹریز کے بانی اور دیگر کمپنیوں کے نو سینیئر ایگزیکٹوز شامل ہیں، پر چین میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
دیگر نشانہ بننے والی کمپنیوں میں نارتھروپ گرومن سسٹمز کارپوریشن اور ایل3 ہیرس میری ٹائم سروسز بھی شامل ہیں۔
یہ اقدام امریکہ کی جانب سے گذشتہ ہفتے تائیوان کو 11.1 ارب ڈالر کے اسلحہ کی فروخت کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ تائیوان کے لیے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی پیکیج ہے اور جس پر بیجنگ نے شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق ’تائیوان کا مسئلہ چین کے بنیادی مفادات کا مرکز اور چین۔امریکہ تعلقات میں وہ پہلی سرخ لکیر ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔‘
چین جمہوری طرزِ حکمرانی کے تحت چلنے والے تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ سمجھتا ہے، تاہم تائی پے اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’تائیوان کے مسئلے پر کسی بھی اشتعال انگیز اقدام کا چین کی جانب سے سخت جواب دیا جائے گا۔ امریکہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تائیوان کو مسلح کرنے کی ’خطرناک‘ کوششیں بند کرے۔
چین جمہوری طرزِ حکمرانی کے تحت چلنے والے تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ سمجھتا ہے، تاہم تائی پے اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔
امریکہ قانوناً تائیوان کو اپنے دفاع کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے کا پابند ہے، تاہم اسلحہ کی یہ فروخت طویل عرصے سے چین کے ساتھ کشیدگی کا باعث بنی ہوئی ہے۔