Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض میں ’حما نیچرل ریزرو‘ کے تحت جنگلی حیات کی بحالی کا پروگرام

جنگلی حیات کی بحالی کے اقدامات میں سب سے اہم جانوروں کے مسکن کا تحفظ ہے۔ فوٹو واس
سعودی عرب میں نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کے زیراہتمام جنگلی حیات کی بحالی پروگرام کے ذریعے بیابان علاقوں میں قدرتی عمل کو فروغ دینے کے لیے امید افزاء اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق ریاض میں منعقد ہونے والے ’حما نیچرل ریزرو‘ فورم میں جنگلی حیات کی بقاء کی کوششوں کو وسعت دے کر جانوروں کی نشونما میں ’ ری وائلڈنگ‘ کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔

نیوم نیچر ریزرو جنگلی حیات کی بحالی و آبادکاری پر غور کررہا ہے۔ فوٹو عرب نیوز

21 تا 24 اپریل منعقد ہونے والے اس فورم میں جنگلی حیات کی نشونما، بحالی اور دوبارہ آبادکاری کے عنوان سے گفتگو کے لیے نشست کا اہتمام کیا گیا۔
نیوم نیچر ریزرو کے سربراہ پال مارشل  کے علاوہ یونیورسٹی آف اوٹاگو کے شعبہ زولوجی کے پروفیسر فلپ سیڈن اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں شعبہ بیالوجی کے سربراہ ٹم کولسن نے خاص موضوع پر ہونے والی بحث میں حصہ لیا۔
اس موقع پر نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف میں جنگلی حیات کی رہائش گاہوں کے تحفظ کے جنرل مینیجر احمد البوق نے ​​کہا ’ہماری سوچ جنگلی حیات کو محفوظ علاقوں میں دوبارہ متعارف کروانے سے  آگے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم مقامی خطرات سے دوچار جانوروں کو ان کی جغرافیائی حدود کے اندر مملکت میں قدرتی مسکن فراہم کرنے کے پروگرام پر عمل کر رہے ہیں۔

جنگلی حیات کے مسکن میں جانوروں کو خطرات سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ فوٹو واس

جنگلی حیات کے تحفظ کے پروگرام میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے نیوم نیچر ریزرو کے سربراہ پال مارشل  کئے جانے والےاقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے ہم قدرتی ماحول بحال کرتے ہوئے جنگلی حیات کی آبادکاری پر غور کررہے ہیں۔
مارشل نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ جنگلی حیات کی رہائش گاہوں کی دوبارہ تعمیر سے کچھ ماحولیاتی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں جن میں دوبارہ متعارف کرائی گئی اور موجودہ نسلوں کو محفوظ رکھنا ضروری ہے تاہم یہ ’ری وائلڈنگ‘ ایسا تجربہ ہے جس کی دنیا کو ضرورت ہے۔
نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف میں محفوظ علاقوں کے آپریشنلائزیشن کے ٹیکنیکل ایڈوائزر رابرٹ موئیر نے کہا کہ جنگلی حیات کی بحالی کے اقدامات میں سب سے اہم جانوروں کا تحفظ اور اس بات کو یقینی بنانا  ہےکہ جن علاقوں میں انہیں لایا جا رہا ہے  وہ کافی حد تک محفوظ ہیں۔

رہائش گاہوں کی دوبارہ تعمیر سے ماحولیاتی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ فوٹو واس

جنگلی حیات کی رہائش گاہوں میں مختلف قسم کے خطرات سے جانوروں کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
مملکت میں کی جانے والی ان کوششوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے مارشل نے کہا سعودی عرب کے بارے میں جو چیز قابل ذکر ہے وہ آئندہ  کی سوچ ہے۔
سعودی عرب اقتصادی ترقی اور سماجی تبدیلی میں آگے بڑھ رہا ہے۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے یہ منصوبے متاثر کن ہیں۔
نیوم نے 2022 کے آخر تک چار عرب نسل ہرن کی افزائش کی ہے ، یہ نسل جنگلات میں ناپید ہونے کے قریب ہے۔

نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف میں جنگلی حیات کے لیے محفوظ ماحول ہے۔ فوٹو عرب نیوز

مملکت میں تمام ذخائر کو جنگلی ماحولیاتی تحفظ کے پروگراموں کے ذریعے بہتر بنانے کے لیے پائیدار طریقوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
قبل ازیں نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف نے مملکت میں قدرتی رہائش گاہوں اور جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں پر گفتگو کرنے کے لیے حما نیچرل ریزرو فورم کا اہتمام کیا۔
اس فورم کا افتتاح ماحولیات، پانی و زراعت کے وزیر اور مرکز کے بورڈ کے چیئرمین عبدالرحمان الفضلی نے کیا۔
نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کا مقصد جنگلی حیات و سمندری ماحولیاتی نظام کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنا ہے تا کہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ ماحول بنایا جا سکے۔
 
 
سعودی عرب کی مزید خبروں کے لیے واٹس ایپ گروپ جوائن کریں

شیئر: