افغان صوبہ بدخشاں میں سونے کی کان کنی سے مقامی آبادی اب پریشان کیوں؟
افغان صوبہ بدخشاں میں سونے کی کان کنی سے مقامی آبادی اب پریشان کیوں؟
اتوار 9 اگست 2026 16:12
علاقے میں کمپنیوں کے علاوہ دیگر ہزاروں افراد کان کنی میں مصروف ہیں: فوٹو اے ایف پی
افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں جہاں کبھی دیہاتی اور ان کا مویشی پہاڑوں اور وادیوں میں آزادانہ گھوم سکتے تھے، اب وہاں درجنوں مشینیں دن رات سونا نکالنے کے لیے کھدائی میں مصروف ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صوبائی دارالحکومت فیض آباد سے تقریباً 50 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع شیوا کے علاقے میں ہزاروں مزدور ملک بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے سونے کی کانوں میں کام کر رہے ہیں۔
اگرچہ بعض مقامی افراد نے ابتدا میں زمینیں لیز پر دے کر مالی فائدہ اٹھایا، لیکن اب انہیں اس فیصلے پر افسوس ہے۔
پلِ زیری بان وادی کے 74 سالہ کسان محمد امین کا کہنا ہے کہ کان کنی شروع ہونے سے پہلے دریا گہرا تھا اور اس کا پانی صاف تھا۔
انہوں نے بتایاکہ ’اب دریا کا پانی نہ پینے کے قابل ہے اور نہ ہی اس سے نہایا جا سکتا ہے۔‘
آبدیدہ ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دریا کے کنارے کی تمام گھاس ختم ہو چکی ہے جبکہ گردوغبار اور تیز ہواؤں کے باعث کھیتی باڑی تقریباً ناممکن ہو گئی ہے۔
ان کے مطابق پہلے وہ 40 بکریاں پال سکتے تھے، لیکن اب صرف 15 بکریوں کی گنجائش رہ گئی ہے۔
محمد امین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زمین ایک کان کنی کمپنی کو تقریباً 20 ہزار ڈالر میں لیز پر دی تھی، تاہم انہیں صرف نصف رقم ملی جبکہ کمپنی نے کام مکمل ہونے کے بعد زمین بحال کرنے کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا۔
طالبان دور میں کان کنی کے شعبے میں تیزی
مقامی آبادی کے مطابق سونے کی کان کنی سے یہاں کی مقامی آبادی کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، اس سے صرف طاقتور لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں: فوٹو اے ایف پی
طالبان حکومت نے پانچ برس قبل اقتدار میں واپسی کے بعد معدنیات کے شعبے کو وسعت دی تاکہ افغانستان کے وسیع قدرتی وسائل سے سرکاری آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے۔
بدخشان کے محکمہ معدنیات کے سربراہ عبدالمتین رحیم زئی کے مطابق صوبے میں تقریباً 650 سے 700 کمپنیوں کی رجسٹریشن ہو چکی ہے جبکہ ہزاروں افراد کان کنی میں مصروف ہیں۔
ورلڈ بینک کی رواں سال مئی میں جاری رپورٹ کے مطابق 2021 کے بعد افغانستان میں سینکڑوں معدنیاتی معاہدے کیے جا چکے ہیں اور اس شعبے کی سالانہ اوسط ترقی 25 سے 30 فیصد رہی ہے۔
روزگار کی کمی مزدوروں کو بدخشان لے آئی
اگرچہ بعض مقامی افراد نے ابتدا میں زمینیں لیز پر دے کر مالی فائدہ اٹھایا، لیکن اب انہیں اس فیصلے پر افسوس ہے: فوٹو اے ایف پی
افغانستان میں روزگار کے محدود مواقع کے باعث ملک کے مختلف علاقوں سے مزدور بدخشاں پہنچ رہے ہیں۔
کابل سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ محمد آغا خواجہ خیل گزشتہ پانچ برس سے کان کنی میں کام کر رہے ہیں اور ٹرک لوڈ کرنے کے عوض ماہانہ تقریباً 10 ہزار افغانی کماتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’کابل میں روزگار نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے یہ کام کسی بھی دوسرے کام سے بہتر ہے۔‘
اسی طرح جلال آباد سے تعلق رکھنے والے شفیع اللہ احساس کان کھودنے والی اپنی مشین سینکڑوں کلومیٹر دور بدخشان لے آئے کیونکہ ان کے علاقے میں سونے کی کان کنی کا کام شروع نہیں ہوا تھا۔
حکومت کا دعویٰ، لیکن خدشات برقرار
مقامی آبادی کے مطابق دریا کا پانی نہ پینے کے قابل ہے اور نہ ہی اس سے جسم دھویا جا سکتا ہے: فوٹو اے ایف پی
طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ اب کان کنی کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت چلایا جا رہا ہے، جبکہ بدعنوانی پر قابو پانے کی کوشش بھی جاری ہے۔
صوبائی حکام کے مطابق گزشتہ برس بدخشان سے 112 کلوگرام سونا سرکاری خزانے میں جمع ہوا، جبکہ کان کنوں کے مطابق سونے کی فروخت کی قیمت تقریباً 118 ڈالر فی گرام رہی۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ ماحول کو نقصان پہنچانے والے تقریباً 225 کان کنی کے مقامات بند کیے جا چکے ہیں۔
’پورا علاقہ کھنڈر بن چکا ہے‘
عبدالمتین رحیم زئی کے مطابق بعض علاقوں میں کان کنی کے باعث پل، دکانیں اور یہاں تک کہ ایک اسکول بھی سیلاب، مٹی اور ملبے تلے دب گئے۔انہوں نے کہا کہ ’پورا علاقہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔‘
'فائدہ صرف طاقتور لوگوں کو ہو رہا ہے'
شیوا کے قریب مویشی پالنے والے 45 سالہ فضل کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے ہر گرمیوں میں اپنے ریوڑ کو ان پہاڑوں میں لاتے رہے ہیں۔
ان کے مطابق یہ علاقے لوگوں کی تفریح اور مویشیوں کی چراگاہ کے لیے محفوظ رہنے چاہییں۔
انہوں نے کہاکہ’سونے کی کان کنی سے یہاں کی مقامی آبادی کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، اس سے صرف طاقتور لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔‘