Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ہم دونوں اکیلے روتے تھے‘، میسی کو سپین لانے والے والد خورخے میسی کا انتقال

میسی کے موجودہ کلب ’انٹر میامی‘ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا’ہماری ہمدردیاں اپنے کپتان لیو اور ان کے تمام اہل خانہ کے ساتھ ہیں‘ (فوٹو: اے ایف پی)
آٹھ مرتبہ کے ’بیلن ڈی اور‘ فاتح اور عالمی شہرت یافتہ ارجنٹائنی فٹ بالر لیونل میسی کے والد اور ایجنٹ خورخے میسی 68 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔
ان کی موت کا اعلان لیونل میسی کے بچپن کے فٹ بال کلب ’نیوئیلز اولڈ بوائز‘ کی جانب سے سنیچر کو کیا گیا۔
ارجنٹائنی میڈیا کے مطابق خورخے میسی کا انتقال جمعے کو ان کے آبائی شہر روزاریو کے ایک ہسپتال میں ہوا۔
نیوئیلز اولڈ بوائز نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا ’ان کا مسلسل ساتھ اور پسِ پردہ قیادت لیونل کے ہر قدم کو مضبوط بنانے میں بنیادی حیثیت رکھتی تھی۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 39 سالہ فٹ بال سٹار سنیچر کو اپنی اہلیہ انتونیلا روکوزو اور بچوں کے ہمراہ ارجنٹائن پہنچے۔
ایئرپورٹ پر دیکھنے والوں کے مطابق خاندان کے بیش تر افراد سیاہ لباس میں ملبوس تھے۔
مقامی انتظامی ذرائع کے مطابق جنازے کی تدفین اتوار کو روزاریو کے قریب واقع قصبے پیریز میں ایک نجی تقریب کے دوران کی جائے گی۔
گزشتہ ورلڈ کپ کے دوران خورخے کی گرتی ہوئی صحت سے متعلق زیرِ گردش افواہوں پر میسی کے اہل خانہ نے میڈیا سے معاملے کی حساسیت اور انسانی ہمدردی کا پاس رکھنے کی اپیل کی تھی۔

ایئرپورٹ پر دیکھنے والوں کے مطابق خاندان کے بیش تر افراد سیاہ لباس میں ملبوس تھے (فوٹو: اے ایف پی)

خورخے میسی کی وفات پر سپینش فٹ بال فیڈریشن نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’سپینش فٹ بال کی جانب سے ہم غم کی اس گھڑی میں لیونل اور ان کے پیاروں سے ہمدردی اور محبت کا اظہار کرتے ہیں۔‘
جبکہ میسی کے موجودہ کلب ’انٹر میامی‘ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا’ہماری ہمدردیاں اپنے کپتان لیو اور ان کے تمام اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔‘
ایک فیکٹری ورکر سے سٹار کا ایجنٹ بننے کا سفر
سابقہ دھات سازی فیکٹری ورکر خورخے میسی نہ صرف اپنے بیٹے کے پہلے کوچ تھے بلکہ جب میسی بچپن میں بارسلونا منتقل ہوئے تو وہ ان کے واحد ساتھی تھے۔ بعد ازاں وہ ان کے ایجنٹ اور منیجر بنے۔
لیونل میسی نے 2022 میں ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا ’میرے والد نے میری بے حد مدد کی۔ وہ مجھ پر سخت تنقید کرتے تھے، اور اسی چیز نے مجھے ہمیشہ آگے بڑھنے اور بہتر کرنے کی تحریک دی۔‘
سنہ 2000 میں خورخے اپنی مستحکم ملازمت، بیوی اور تین بچوں کو ارجنٹائن میں چھوڑ کر اپنے 13 سالہ بیٹے کے ساتھ سپین منتقل ہو گئے تھے۔
لیونل میسی نے بعد میں ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا ’جب ہم بارسلونا پہنچے تو میں اپنے کمرے میں بند ہو کر اکیلا روتا تھا اور میرے والد بھی یہی کرتے تھے، یا تو میرے بغیر دیکھے یا وہ سمجھتے تھے کہ میں دیکھ نہیں رہا۔ ہم ظاہر یہی کرتے تھے کہ ہم ٹھیک ہیں لیکن ہم دونوں مشکل میں تھے۔‘
میسی کے مطابق ’جب حالات سخت ہوئے تو میرے والد نے مجھ سے پوچھا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں، کیا میں یہیں رہنا چاہتا ہوں یا واپس جانا چاہتا ہوں۔ میں جاری رکھنا چاہتا تھا، اس لیے وہ میرے ساتھ رک گئے۔‘

سنہ 2000 میں خورخے اپنے 13 سالہ بیٹے کے ساتھ سپین منتقل ہو گئے تھے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)

بعد میں خورخے نے ہی بارسلونا کے ساتھ اپنے بیٹے کے پہلے معاہدے کو حتمی شکل دی اور بعد میں پیرس سینٹ جرمین اور میامی میں بھی ان کے واحد نمائندے اور ایجنٹ رہے۔
خلوت پسند شخصیت کے مالک خورخے میسی شاذ و نادر ہی انٹرویو دیتے تھے لیکن جب بھی بولتے تو اپنے بیٹے سے اٹوٹ رشتے کا ذکر کرتے۔
سنہ 2013 میں جرمن میگزین ’کرِکر‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ’جس دن لیو کھیل ختم کرے گا، مجھے لگتا ہے کہ میرا ایک خواب ٹوٹ جائے گا اور میں پھر فٹ بال نہیں دیکھوں گا۔‘
مالی تنازعات اور تنازع
تاہم ان کی زندگی تنازعات سے بالکل پاک نہیں رہی۔
2013 میں سپین کے حکام نے والد اور بیٹے دونوں پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے 2007 سے 2009 کے درمیان برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، بیلیز اور یوراگوئے میں کمپنیوں کا نیٹ ورک استعمال کرتے ہوئے فٹ بالر کے امیج رائٹس کی کمائی پر ٹیکس چوری کیا۔ یہ کیس 2017 میں بھاری جرمانے کی ادائیگی کے بعد ختم ہوا تھا۔
بعد ازاں 2019 میں خورخے اور لیونل میسی کو ’لیو میسی فاؤنڈیشن‘ کے ساتھ سپین میں ٹیکس جرائم، دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے نئے الزامات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کیس کو 2021 میں خارج کر دیا گیا تھا۔

شیئر: