Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کے علاقے ’الندافہ‘ روئی سے رضائیاں بنانے کا ہنر آج بھی زندہ

النداف وہ کاریگر ہوتا ہے جو روایتی اوزراوں کی مدد سے روئی کو صاف کرکے نرم بناتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے حدودِ شمالیہ ریجن میں روئی اور اون کو بستروں اور رضائیوں میں تبدیل کرنے کا روایتی ہنر ’الندافہ‘ آج بھی زندہ ہے جو نسل در نسل مہارت کی عکاسی کرتا ہے۔
خبر رساں ادارے ایس پی اے سے بات کرتے ہوئے ایک ہنرمند نضال فیصل العبید نے بتایا کہ ’النداف وہ کاریگر ہوتا ہے جو روایتی اوزراوں کی مدد سے اون اور روئی کو صاف کر کے نرم بناتا ہے اور پھر اسے قابلِ استعمال بناتا ہے۔‘
’اس عمل کے بعد کاریگر یہ اون اور روئی گدے، رضائیاں اور تکیے بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ہنر ہے جو صنعتی اور جدید متبادل چیزوں سے قبل لوگوں کو آرام پہنچانے کا ذریعہ تھا۔‘

حدود الشمالیہ میں اون کی فراہمی اس ہنر کو زندہ رکھے ہوئے ہے (فوٹو: ایس پی اے)

مارکیٹ میں بنی بنائی اشیا دستیاب ہونے کے باوجود ’الندافہ‘ کا ہنر اب بھی عرعر اور اس کے آس پاس علاقوں میں مقامی لوگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ علاقہ قدرتی چراگاہوں پر مشتمل ہے اور یہاں بھیڑ بکریاں بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے اون کی فراہمی اس ہنر کو زندہ رکھے ہوئے ہے اور یہ مقامی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔
 ہاتھ سے بنائی گئی ان چیزوں کو ثقافتی نمائشوں اور سعودی روایات کو منانے والے قومی فیسٹولز میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اس روایتی ہنر کو محفوظ رکھنے اور فروغ دینے کے لیے کام کیا جا رہا ہے (فوٹو: ایس پی اے)

اگرچہ اب کچھ کاریگر روئی یا اون کو پھلانے کے عمل میں سادہ مشینیں استعمال کرتے ہیں تاکہ کام تیز ہو جائے لیکن اس ہنر کی اصل روح اب بھی ویسی کی ویسی ہے۔
اون کے چناؤ سے لے کر اسے صاف کرنے، نرم بنانے، اور مقامی طور پر بُنے گئے کپڑوں میں بھرنے تک ہر مرحلہ روایات اور جدید ذوق کے امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔
سعودی عرب کا ہیریٹیج کمیشن اور وزارتِ ثقافت وژن 2030 کے تحت ’الندافہ‘ جیسے روایتی ہنر کو محفوظ رکھنے اور فروغ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
وہ ہنرمندوں کو تربیت دینے، کام کو بہتر بنانے اور مارکیٹنگ کے مواقع فراہم کر رہے ہیں تاکہ یہ روایتی ہنر ایک مضبوط روزگار کا ذریعہ سکیں۔

 

شیئر: