کویتی وزارت داخلہ نے ایک جعلسازی کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یہ لوگ مصری شہریوں کے لیے جعلی ورک پرمٹس کے اجرا میں ملوث تھے۔
العربیہ نیٹ کے مطابق پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت میں تعینات ایک افسر جو بطور قائم مقام ڈائریکٹر خدمات انجام دے رہا تھا، نے ایک ایجنٹ کو درست اور اصلی سرکاری دستاویزات فراہم کیں جنہیں بعدازاں جعلسازی کے لیے استعمال کیا گیا۔
ہر جعلی درخواست کے بدلے میں 130 سے 250 کویتی دینار تک رشوت وصول کی جاتی تھی۔
مزید پڑھیں
-
کویت: اقاموں کا کاروبار کرنے والا 6 رکنی گروہ گرفتارNode ID: 877107
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایجنٹ یہ دستاویزات ایک پرنٹنگ پریس میں کام کرنے والے شخص کو فراہم کرتا تھا جو ان میں رد و بدل کر کے انہیں ’سھل‘ نامی سرکاری پروگرام کے ذریعے دوبارہ اپلوڈ کرتا تھا۔ اور اس کے عوض اسے فی معاملہ 5 دینار ادا کیے جاتے تھے۔
کویتی وزارت داخلہ کے مطابق گرفتار ہونے والے تمام افراد اور دیگر نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ایجنٹ کو رشوت دے کر غیر قانونی طریقے سے لیبر بھرتی کروائی۔ ان جعلسازوں کے ذریعے متعدد کمپنیوں کے لیے ورک پرمٹس جاری کرائے گئے جن کا ریکارڈ اکٹھا کیا جارہا ہے اور اس حوالے سے تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
وزارت داخلہ نے تمام ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس نیٹ ورک میں ملوث تمام عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں اور ایسے اقدامات کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو ریاستی نظام اور ملک کے وقار کو نقصان پہنچاتے ہوں۔