پاکستان کے وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ ’سیلابی صورتحال میں امدادی کارروائیوں کے لیے صوبوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
ڈاکٹر مصدق ملک نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین کے ساتھ اتوار کی شام پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’محفوظ مقامات پر متنقل کیے گئے آٹھ لاکھ غریب افراد کی دیکھ بھال ہماری ترجیح ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’وزیراعظم سیلابی صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔ ہم اس قدرتی آفت کے نقصانات کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
اس موقع پر این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا کہ ’سیلاب کے پیشگی وارننگ کی ذمہ داری این ڈی ایم اے کی ہے اور گزشتہ کئی ماہ کے دوران ہم نے درست پیش گوئیاں کی ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ‘ہمارے شمالی علاقوں میں آئندہ برسوں میں گلیشئرز زیادہ تیزی سے پگھلیں گے۔ آئندہ دنوں میں مزید مون سون بارشیں بھی متوقع ہیں۔‘
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ ’اس وقت دریائے جہلم میں بہت زیادہ بہاؤ نہیں ہے۔ اس وقت پنجاب پر چناب، راوی اور ستلج کا دباؤ ہے۔‘
’چار سے پانچ ستمبر کو ان دریاؤں کے تمام ریلے گدو بیراج کے مقام پر اکٹھے ہوں گے تاہم اس سے قبل ریلوں کی رفتار اور پانی کی مقدار میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔‘