سیلابی پانی کی سٹوریج، کیا ڈیموں کی تعمیر فطرت دوست حکمت عملی ہے؟
سیلابی پانی کی سٹوریج، کیا ڈیموں کی تعمیر فطرت دوست حکمت عملی ہے؟
اتوار 31 اگست 2025 9:34
قیصرہ صدیق
پاکستان میں سیلای صورتحال کے بعد ڈیمز کی تعمیر پر زور دیا جا رہا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
اگر صرف پچھلی تین چاردہائیوں کا ہی ذکر کریں تو مون سون موسم کبھی اتنا غیرمتوازن، غیر یقینی اور شدت پسند نہیں رہا جتنا کہ آج ہے۔ ماضی میں مون سون پیش گوئی کے قابل تھا۔ بارشیں آہستہ آہستہ اور مسلسل برستی تھیں جس سے زیر زمین پانی میں اضافہ ہوتا تھا اور فصلوں کو بھرپور فائدہ پہنچتا تھا۔
آج کل بارشوں کا پیٹرن غیر متوازن ہو گیا ہے یا تو بارشیں باکل نہیں ہوتیں اور خشک سالی کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے یا پھر چند منٹوں یا گھنٹوں میں اتنا پانی برس جاتا ہے کہ سیلابی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ہمارے لیے کلاؤڈ برسٹ اور فلیش فلڈز کی ٹرمز بھی کافی نئی ہیں۔
ماضی کے مون سون پیٹرن کا فائدہ یہ تھا کہ کئی دن تک جاری رہنی والی ہلکی ہلکی بارشوں سے ندی نالے اور دریا میں آہستہ آہستہ پانی بھرتا تھا اورسیلابی صورت حال بہت کم دیکھنے میں آتی تھی۔
شہروں میں نکاسی آب کے مسائل تو ہوتے تھے لیکن اس قدر تباہی نہیں ہوتی تھی جو آج اربن فلڈز کی شکل میں نظر آتی ہے۔ کاشتکار اپنی فصلوں کی بوائی بارشوں کے تسلسل کو ذہن میں رکھ کر کرتے تھے اور زراعت کو بھرپور فائدہ ہوتا تھا۔
پوری دنیا میں موسموں اور بارشوں کا یہ بگاڑ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے جسے کلائمیٹ چینج بھی کہا جاتا ہے۔ ان تبدیلیوں نے زمین، زرعی نظام اور شہری انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
تحقیات بتاتی ہیں کہ 2010 اور 2022 کے شدید سیلاب کلائمیٹ چینج کی وجہ سے اس قدر سنگین ثابت ہوئے۔
پاکستان کے تمام دریاؤں میں طغیانی کے بعد قریبی آبادیوں کو منتقل کیا گیا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
ان ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گرمی کی لہر میں اضافہ ہوتا ہے اور گلیشیئر پگھلنے کی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی آ جاتی ہے۔ چھوٹے چیک ڈیمز یا آبی ذخائر نا ہونے کی وجہ سے پانی ضائع بھی ہو جاتا ہے اور تباہی کا باعث بھی بنتا ہے۔
شہروں میں درختوں کے بے دریغ کٹاؤ، پکی سٹرکوں، عمارتوں اور بہتر نکاس آب نا ہونے کی وجہ سے پانی زمین میں جذب نہیں ہوتا اورسیلابی ریلے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور شدید معاشی نقصان ہوتا ہے۔ پاکستان میں جنگلات نا ہونے کے برابر ہیں جو بارشوں کے نظام کو متوازن رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کا دار و مدار پانی پر ہے لیکن ہم سیلابی تباہ کاریوں اور خشک سالی کا بیک وقت شکار رہتے ہیں۔
اس ساری صورت حال میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں ان سیلابوں سے بچنے کے لیے ڈیمز بنانے کی ضرورت ہے یا کوئی اور ایسا متبادل نظام ہو جس سے نقصان کم سے کم ہو کیونکہ مقامی سطع پر فی الحال ایسے کسی حل پر ہی عمل درآمد ہو سکتا ہے۔
اس ساری صورت حال سے نمٹنے کے لیے پاکستان میں پالیسی سازوں اور ماہرین کی ایک بڑی تعداد ڈیمز کے حق میں دلائل دیتی ہے۔ ان کی رائے میں بارشوں اور گلیشئرز پگھلنے سے آنے والا پانی ڈیمز میں محفوظ کیا جا سکتا ہے اور بعد میں زرعی اور گھریلو استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔
ہم اس پانی سے بجلی بھی پیدا کر سکتے ہیں جو قدرے سستی اور ماحول دوست ہو گی۔ ان کی رائے میں ڈیمز کی تعمیرکافی حد تک سیلابی صورت حال کو روک سکتی ہے کیونکہ اچانک آنے والے پانی ان ڈیمزمیں زخیرہ ہو جائے گا اور اس کے ساتھ ڈیمز کی تعمیر روزگار بھی مہیا کرے گی۔
سیلاب کے بعد صوبہ پنجاب کے کئی گاؤں زیرِ آب آئے ہوئے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
اس کے برعکس بعض ماہرین کا یہ خیال ہے یہ ایک ناپائیداراور فطری تقاضوں کے برعکس حل ہے۔ ڈیمزکی تعمیر پانی کے قدرتی بہاؤ کی راہ میں روکاوٹ ہے جس سے ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔ ڈیلٹا سکڑ جاتا ہے اور آبی حیات متاثر ہوتی ہیں۔
ماضی میں بننے والے ڈیمز اس بات کے گواہ ہیں کہ ڈیمز کی تعمیر لوگوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیتی ہے اور پھر ہمارے ہاں صوبائی کشیدگی کا ایک بڑا مسئلہ بھی کھڑا ہو جاتا ہے کہ اس پانی پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے۔
ڈیمز نا صرف فطری تقاضوں کے منافی ہیں یہ معیشت پر بھی بہت بڑا بوجھ ہیں خاص طور پر ایک ایسے ملک کے لیے جو پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ کیونکہ کسی بھی ایک ڈیم کی زندگی بھر کی لاگت اربوں ڈالز بنتی ہے اور ماحولیاتی نقصان الگ۔
متبادل کے طور پر پیش کیے جانے والے حل، ندی نالوں کے انتظام کو بہتر کرنا اور زیرِ زمین ریچارج زونز کا بنانا ہے جہاں پانی ذخیرہ ہو سکے اور بعد میں استعمال کے قابل ہو سکے۔ یہ حل زیادہ پائیدار اور کم لاگت والا ہے۔ ان ریچارج زونز کی پانی ذخیرہ کرنے کی کپیسٹی بھی ڈیمز کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
بڑے ڈیمز کے مقابلے میں چھوٹے ڈیمز یا تالاب زیادہ کارآمد ہیں۔ دریاؤں کے کنارے موجود دلدلی علاقے جن کو وٹ لینڈز بھی کہا جاتا ہے پانی ذخیرہ کرنے کا ایک بہتریں ذریعہ ہیں جنہیں بحال کیا جانا چاہیے۔
دریاؤں کو پھیلنے کی جگہ دنیی چاہیے۔ دریاؤں کے کناروں کو خالی چھوڑ دینا چاہیے تاکہ اضافی پانی وہاں سما سکے نا کہ آبادیوں میں داخل ہو کر تباہی مچائے۔ ہمارے اردگرد بہت سے ممالک میں یہ ماڈل اپنائے گئے ہیں جن میں ہمارے ہمسایہ ممالک انڈیا، بنگلہ دیش اور ایران بھی شامل ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں نے مون سون کے دورانیے کو بھی بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
ہمیں کسی بھی نئے منصوبے کو انوائرمنٹ امپیکٹ اسسمنٹ کے بغیر شروع نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ آبپاشی کے جدید طریقوں کی طرف جانا چاہیے۔ چونکہ ہمارا زراعت کے لیے پانی پر انحصار بہت زیادہ ہے اس لیے ہمیں ڈرپ ایریگیشن اور اسپرنکلر سسٹم اپنانے اور عام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
شہروں میں بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے رین واٹر ہاروسٹنگ کو لازمی کیا جائے۔ جنگلات کو بڑھا کر بارش کے پانی کو زمین میں جذب ہونے دینا چاہیے۔
ہمیں ہر اس منصوبے کو فی الفور روک دینا چاہیے جو ماحولیاتی نقصان کا باعث ہو، چاہے وہ ڈیمز ہی کیوں نہیں ہیں۔ سیلابی پانی کے انتظام کے لیے فطرت دوست حکمت عملی اپنانا ہی ہمارے حق میں سب سے بہتر ہے۔