لاہور کی نواحی بستی چونگ میں وہ کمرہ جو کلاس روم تھا اب ریلیف کیمپ میں بدل گیا ہے جہاں سیلاب سے متاثرہ حاملہ خواتین نے پناہ لے رکھی ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ریلیف کیمپ میں مایوسی بیٹھی خواتین خاموش ہیں اور اُن کی آںکھیں تکلیف اور تھکن کی شکایت کر رہی ہیں۔
یہ خواتین اس انتظار میں ہیں کہ ان کے گھروں میں داخل ہونے والا پانی کم ہو۔ اس دوران ریلیف کیمپ میں اُن کی صحت کی دیکھ بھال کے لیے کچھ بھی موجود نہیں۔
مزید پڑھیں
-
لاہور میں سیلاب کے بعد ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز میں کمرے ملنا مشکلNode ID: 893945
19 سالہ شمائلہ ریاض سات ماہ کی حاملہ ہیں۔ وہ گزشتہ چار دن امدادی کیمپ میں ہیں۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں اپنے بچے کے مستقبل کے بارے میں سوچتی تھی، لیکن اب مجھے اپنے مستقبل کے بارے میں بھی کچھ یقین نہیں۔‘
جس سکول میں ریلیف کیمپ قائم ہے اس کے چاروں طرف بھی سیلاب کا پانی کھڑا ہے اور ہر طرف کیچڑ ہے۔ یہاں دو ہزار سے زیادہ لوگوں کو چھت فراہم کی گئی ہے۔ خواتین میلے کپڑوں میں ملبوس ہیں اور کئی دنوں سے انہوں نے بال بھی برش نہیں کیے کیونکہ سب کچھ گھروں میں چھوڑ آئی ہیں جو سیلابی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
اپنا اصل نام ظاہر نہ کرنے والے چار ماہ کی حاملہ 19 سالہ فاطمہ (فرضی نام) نے بتایا کہ ’میرے جسم میں بہت درد رہتا ہے اور مجھے وہ دوائیں نہیں مل رہیں جو میں چاہتی ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حمل کے دوران ’میں اپنی مرضی کے مطابق کھاتی اور سوتی تھی، اپنی مرضی کے مطابق چلتی تھی - اب یہ سب ختم ہو گیا ہے۔ میں یہاں ایسا نہیں کر سکتی۔‘
گزشتہ ہفتے کے دوران ہونے والی مون سون کی بارشوں نے تین بڑے دریاؤں میں بہاؤ میں غیرمعمولی اضافہ کیا جس سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے اور ملک کے زرعی مرکز میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔
اتوار کو سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق پنجاب کی تاریخ کے سب سے بڑے ریسکیو آپریشن میں تقریباً ساڑے سات لاکھ لوگوں کو سیلاب زدہ علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جن میں سے ایک لاکھ 15 ہزار کو کشتیوں کے ذریعے بچایا گیا۔

دریاؤں نے اپنے کناروں کے قریب زیادہ تر دیہی علاقوں کو متاثر کیا ہے لیکن شدید بارش نے شہری علاقوں کو بھی سیلابی صورتحال سے دوچار کیا جس میں ملک کے دوسرے بڑے شہر لاہور کے کئی حصے بھی شامل ہیں۔
جنوبی ایشیا کے ملکوں میں مون سون بارشوں پر کسانوں کا انحصار ہوتا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی نے پورے خطے میں اس موسم کو بے ترتیب اور مہلک بنا رہی ہے۔
مون سون کی معمول سے زیادہ طوفانی بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب نے جون سے اب تک ملک بھر میں 850 سے زیادہ افراد کی جان لی ہے۔
صوبائی وزیر نے اتوار کو بتایا کہ تازہ ترین بارش سے کم از کم 32 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
باتھ روم اور صفائی کی جگہ کا نہ ہونا
خیموں میں سوتے ہوئے سیلاب سے بے گھر ہونے والی خواتین کو سینیٹری پیڈ اور صاف کپڑے حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
پاکستان میں حیض ایک ممنوع موضوع ہے، بہت سی خواتین اس کے بارے میں بات کرنے کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔
35 سالہ علیمہ بی بی نے بتایا کہ ’جب ہمیں ماہواری آتی ہے تو ہم پیڈ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اور اگر ہم ایسا کرتے بھی ہیں تو استعمال کرنے کے لیے مناسب باتھ روم موجود نہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم باتھ روم استعمال کرنے کے لیے قریبی گھروں میں جاتے ہیں۔‘