سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان نے انڈیا کے سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کر دیے ہیں۔
یہ رواں سال مئی میں تنازع کے باعث پاکستان اور انڈیا کے درمیان لگائی گئی سفری پابندیوں کے بعد دی جانے والی پہلی بڑی اجازت ہے۔
مزید پڑھیں
-
پہلگام حملہ، انڈیا نے پاکستان سے درآمدات پر پابندی لگا دیNode ID: 889135
نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بابا گرونانک دیو جی کی جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے ویزے جاری کیے گئے، سکھ یاتریوں کو جاری شدہ ویزوں کی تعداد 2100 سے زائد ہے۔
بابا گرونانک دیو جی کی جنم دن کی تقریبات 4 سے 13 نومبر 2025 تک پاکستان کے شہر ننکانہ صاحب میں ہوں گی۔
انڈیا کی جانب سے اس بیان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم انڈین اخبارات نے سنیچر کو رپورٹ کیا کہ حکومت ’منتخب‘ گروپوں کو سکھ مذہب کے بانی کے جشن کے لیے 10 روزہ دورے کی اجازت دے گی۔
The Pakistan High Commission in New Delhi has issued over 2100 visas to Sikh pilgrims from India to participate in the Birth Celebrations of Baba Guru Nanak Dev Ji, to be held in Pakistan from 04-13 November 2025.@ForeignOfficePk@Saadawarraich@epwing_official
— Pakistan High Commission India (@PakinIndia) October 29, 2025
پاکستان کی سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کے مطابق دورے کے دوران سکھ یاتری دیگر مقامات کے علاوہ گردوارہ ننکانہ صاحب، گردوارہ پنجہ صاحب اور گردوارہ کرتار پور صاحب بھی جائیں گے۔
اس موقع پر ناظم الامور سعد احمد وڑائچ نے سکھ یاتریوں کو مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’حکومتِ پاکستان بین المذاہب اور بین الثقافتی ہم آہنگی و تفہیم کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ ویزوں کا اجراء مذہبی مقامات کے دوروں سے متعلق 1974ء میں طے پانے والے پاکستان اور انڈیا کے دوطرفہ معاہدے کے تحت کیا گیا ہے۔‘
اے ایف پی کے مطابق ننکانہ صاحب میں ہزاروں سکھ زائرین کی آمد متوقع ہے جو گرو نانک کی جائے پیدائش ہے۔

ننکانہ صاحب انڈیا کی سرحد سے 85 کلومیٹر (52 میل) مغرب میں واقع ہے۔ یہ سرحد اُس وقت قائم کی گئی تھی جب 1947 میں برصغیر کو ہندو اکثریتی انڈیا اور مسلم اکثریتی پاکستان میں تقسیم کیا گیا تھا۔
رواں سال 22 اپریل کو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں عسکریت پسندوں نے 26 سیاحوں کو ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔
انڈیا نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد معطل کر دیا جبکہ پاکستانی شہریوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیتے ہوئے اسلام آباد میں اپنا سفارتی عملہ بھی کم کر لیا۔
اٹاری- واہگہ سرحد جو دونوں ممالک کی پنجاب کی ریاستوں کو الگ کرتی ہے، مئی میں عام آمد و رفت کے لیے بند کر دی گئی تھی۔











