Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات آج استنبول میں دوبارہ شروع ہوں گے

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں کمی مذاکرات کا تیسرا دور آج جمعرات کو ترکیہ کے شہر استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔
پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق خفیہ ایجنسی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک بدھ کو افغان طالبان کی قیادت سے دوبارہ مذاکرات کرنے کے لیے ترکیہ روانہ ہوئے۔
پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل نے بدھ کو سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ آئی ایس آئی چیف عاصم ملک اپنے افغان ہم منصب سے ملاقات کریں گے۔
دونوں ملکوں کے درمیان اکتوبر میں ہونے والی خوں ریز سرحدی جھڑپوں کے بعد قطر اور ترکی کی ثالثی میں دوحہ میں امن مذاکرات ہوئے اور 19 اکتوبر کو جنگ بندی کا فیصلہ ہوا۔
25 اکتوبر کو ترکیہ کے شہر استنبول میں چار دن تک جاری رہنے والا مذاکرات کا دوسرا دور ہوا جس میں جنگ بندی کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ جنگ بندی کے نفاذ کے مزید طریقہ کار پر 6 نومبر 2025 کو استنبول میں پرنسپل سطح کی ملاقات میں غور و خوض کیا جائے گا اور فیصلہ کیا جائے گا۔
’تمام فریقوں نے نگرانی اور توثیقی نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے جو امن کے قیام کو یقینی بنائے گا اور خلاف ورزی کرنے والے فریق پر جرمانہ عائد کرے گا۔‘
پاکستان دفتر خارجہ کے ترجمان ناصر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا تھا کہ ’دونوں ممالک کے درمیان چھ نومبر کو مذاکرات کا آئندہ دور ہونے والا ہے۔ افغانستان کے ساتھ 6 نومبر کو مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی توقع ہے۔

پاکستان اور افغانستان نے 19 اکتوبر کو دوحہ میں ترکیہ اور قطر کی ثالثی سے ایک جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے بتایا کہ استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کی حکومت کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ختم ہو گیا ہے۔ پاکستان نے مذاکرات میں مثبت جذبے اور سنجیدہ رویے کے ساتھ شرکت کی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان کا موقف واضح رہا کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔‘
اسلام آباد طالبان پر الزام لگاتا ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کی میزبانی کر رہے ہیں، جو پاکستان کی مخالف ایک الگ عسکریت پسند تنظیم ہے، اور انہیں افغان سرزمین سے پاکستانی افواج پر حملوں کی اجازت دیتے ہیں۔ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس گروہ پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں۔

تشدد روکنا مذاکرات کا مرکزی مقصد

گذشتہ ماہ اکتوبر میں افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے جو 2021 میں طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد سب سے سنگین جھڑپیں تھیں۔
اکتوبر کے اوائل میں پاکستان کی جانب سے کابل سمیت کئی مقامات پر فضائی حملے کیے گئے، جن کا ہدف پاکستانی طالبان کا سربراہ بتایا گیا۔ اس کے جواب میں افغان طالبان حکومت نے 2600 کلومیٹر طویل سرحد کے مختلف حصوں پر پاکستانی فوجی چوکیوں پر جوابی حملے کیے۔ سرحد تاحال بند ہے۔
دونوں ممالک نے 19 اکتوبر کو دوحہ میں ترکیہ اور قطر کی ثالثی سے ایک جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، تاہم استنبول میں ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرات میں فریقین کسی متفقہ نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

 

شیئر: