Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ میں ملکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد پروازیں منسوخ

امریکہ میں ملکی تاریخ کے طویل ترین شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق فیڈرل ایوی ایشن کے احکامات کے تحت ملک کے مصروف ترین ایئر پورٹس پر آئندہ ہفتے مزید پروازیں منسوخ کی جائیں گی۔
شٹ ڈاؤن کے باعث فضائی اڈوں پر ایئر ٹریفک کنٹرول عملے کی کمی سے مشکلات کا سامنا ہے جبکہ تقریباً ایک ماہ سے ملازمین کو تنخواہیں نہیں ادا کی گئیں۔
جمعے کو امریکہ کے 40 ایئرپورٹس بشمول اٹلاناٹا، ڈیلاس، ڈینور اور شمالی کیرولینا میں شارلٹ ایئر پورٹ پر مسافروں کا رش لگا ہوا تھا جبکہ کئی ایئر لائنز نے فلائٹ چلنے کے وقت سے کچھ دیر پہلے پروازیں منسوخ کیں۔
ایئرلائنز نے پروازوں کے شیڈیول میں خلل پیدا ہونے کے حوالے سے خبردار کیا ہے تاہم غیرملکی فلائٹس نہیں متاثر ہوں گی۔
ٹرانسپورٹیشن سیکریٹری شان ڈفی کا کہنا ہے کہ اگر شٹ ڈاؤن برقرار رہا اور تنخواہیں نہ ملنے پر مزید ایئر کنٹرول عملہ کام پر نہ آ سکا تو پروازوں کی تعداد مزید 15 سے 20 فیصد کم کر دی جائے گی۔
ابتدائی طور پر ملک کے 40 بڑے ایئرپورٹس پر پروازوں کی تعداد میں دس فیصد کمی کی گئی ہے۔
پروازوں کو ٹریک کرنے والی ویب سائٹ ’فلائیٹ اویئر‘ کے مطابق جمعے کو ملک بھر میں ایک ہزار سے زیادہ پروازیں منسوخ کی گئیں جو جمعرات کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہیں۔

امریکہ میں شٹ ڈاؤن کے باعث ایک ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی گئیں۔ فوٹو: اے ایف پی

ریگن نیشنل ایئرپورٹ سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں لینڈ کرنے والی 81 پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔
ایئر لائنز کی کوشش ہے کہ چھوٹے روٹس جن پر یومیہ متعدد فلائٹس چلتی ہیں انہیں منسوخ کیا جائے تاکہ کم سے کم مسافر متاثر ہوں۔
فیڈرل ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ ایئر ٹریفک کنٹرول عملے پر کام کے دباؤ کے باعث پروازوں میں کمی کا اقدام ضروری تھا، زیادہ تر عملہ ہفتے کے چھ روز مسلسل کام کر رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ڈیموکریٹس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ فنڈنگ بل پر تنازع کو ختم کریں تاہم اپوزیشن جماعت کا کہنا ہے کہ ہیلتھ کیئر پر سبسیڈیز کے حوالے سے ریپبلکنز بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
یکم اکتوبر سے شروع ہونے والے اس شٹ ڈاؤن کے باعث کم آمدنی والے امریکیوں کو امدادی خوراک نہیں مل سکی، سروسز فراہم کرنے والے اکثر سرکاری ادارے بند ہیں جبکہ تقریباً 7 لاکھ سے زائد وفاقی ملازمین کو معطل کیا جا چکا ہے۔

 

شیئر: