ساحلوں پر شکار: موسمِ سرما میں اللیث گورنریٹ باز پروروں کا پسندیدہ مقام
مغربی ساحل پر واقع سعودی عرب کے اللیث گورنریٹ میں فالکنری عرب ورثے کا ایک اہم حصہ ہے اور آج بھی مقامی لوگوں کی زندگیوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے اور روایتی اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق روایتی طور پر باز پرور سردیوں کے موسم میں اپنے تربیت یافتہ بازوں کے ساتھ تھامہ کے میدانوں میں شکار کے لیے نکلا کرتے ہیں۔ باز کو فخر، وقار اور عرب سخاوت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اللیث جو بحیرۂ احمر کے کنارے واقع ایک ساحلی شہر ہے، میں باز کے شکار کو ایک قدیم فن سمجھا جاتا ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ یہاں کے باز پرور بڑی محنت، صبر، دانشمندی اور نظم و ضبط کے ساتھ اپنے بازوں کو تربیت دیتے ہیں۔ ان کے لیے یہ فن ایک ایسی درسگاہ ہے جو وفاداری اور ہمت سکھاتی ہے۔
اللیث کے رہائشی احمد المہدوی کے مطابق یہاں سمندر، میدان اور پہاڑ تینوں کا حسین امتزاج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شکار کے موسم میں ساحلی علاقے باز پروروں کی پسندیدہ جگہ بن جاتے ہیں کیونکہ یہ علاقہ مہاجر پرندوں کی گزرگاہ اور آرام گاہ کے طور پر بھی مشہور ہے۔
سعودی عرب میں فالکنری کو اصل عرب ورثے کا تسلسل سمجھا جاتا ہے، اور اس روایت کو متعلقہ اداروں کی جانب سے خاص توجہ اور تعاون حاصل ہے۔ یہاں میلے اور مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ باز پروروں کی مہارت کو سراہا جا سکے اور باز کو فخر اور روایت کی علامت کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
فالکنری سعودی معاشرے میں ثقافتی شناخت اور تاریخی ورثے سے گہرے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔