Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تفتان: گیس باؤزر میں آگ، اسسٹنٹ کمشنر سمیت چار افراد زخمی، آگ پھیلنے کا خدشہ

آگ پھیلنے کے باعث قریبی آبادی کو بھی خطرات لاحق ہو گئے۔
 ایران کی سرحد کے قریب بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے تفتان میں قائم ایل پی جی باٹلنگ پلانٹ میں کھڑے ایک گیس باؤزر میں لگنے سے کم از کم چار افراد جھلس کر زخمی ہو گئے۔
زخمیوں میں اسسٹنٹ کمشنر تفتان شامل ہیں۔آگ پھیلنے کے باعث قریبی آبادی کو بھی خطرات لاحق ہو گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق بدھ کی رات کو تفتان میں واقع ایل پی جی باٹلنگ پلانٹ میں کھڑے گیس باؤزر میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔
آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے کارروائی شروع کی تاہم ریسکیو آپریشن کے دوران باؤزر اچانک زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے بعد آگ نے شدت اختیار کر لی۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد آگ کے شعلے اتنے بلند تھے کہ انہیں کئی کلومیٹر دور سے بھی دیکھا جا سکتا تھا جس کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا - کچھ فاصلے پر کھڑے لوگ آگ سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے نظر آئے- 
سوشل میڈیا صارفین کے مطابق آگ کے شعلے تفتان سے چند کلومیٹر دور ایرانی شہر میرجاواہ میں بھی نظر آئے۔
ڈپٹی کمشنر چاغی جہانزیب شاہوانی نے اردو نیوز کو بتایا ’ آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ کمشنر تفتان فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کی گئیں تاہم ریسکیو آپریشن کے دوران اچانک دھماکے کے باعث آگ مزید پھیل گئی۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’کمشنر تفتان بھی آگ کی زد میں آ گئے اور معمولی زخمی ہوئے تاہم اس کے باوجود وہ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔‘
ڈپٹی کمشنر کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آگ پہلے ایل پی جی باٹلنگ پلانٹ میں لگی یا وہاں کھڑے گیس باؤزر میں۔
انہوں نے بتایا کہ ’اس پلانٹ میں ایران سے لائے گئے ایل پی جی باوزرز کو خالی کیا جاتا ہے اور یہ آبادی کے قریب واقع ہے جس کے باعث آگ پھیلنے اور بڑے نقصانات کا خدشہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’دھماکے کے بعد آگ کافی حد تک پھیل گئی جس پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ، مقامی انتظامیہ، پولیس، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور این ایل سی کی ٹیمیں مشترکہ طور پر کارروائی میں مصروف ہیں جبکہ دالبندین اور نوکنڈی سمیت ضلع بھر سے فائر بریگیڈ کی مزید گاڑیاں اور ایمبولینسز بھی روانہ کر دی گئی ہیں۔‘
ڈپٹی کمشنر نے تصدیق کی کہ اب تک کم از کم چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ مزید زخمیوں کی اطلاعات پر ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’آگ لگنے کی وجوہ کا تعین تاحال نہیں ہو سکا تاہم ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی۔‘

شیئر: