Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سرسبز وادیاں اور زرخیز مٹی: جازان ’فوڈ سکیورٹی کے لیے اہم‘

سعودی عرب میں زرعی ترقی اور فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے جازان کا علاقہ اہمیت کا حامل ہے۔ یہ خطہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کی وجہ سے متنوع زرعی پیداوار کے لیے زرخیز ہے۔
سعودی خبررساں ادارے (ایس پی اے) کے مطابق جازان ریجن میں وسیع زرعی رقبہ ہے۔ سرسبز وادیاں اور زرخیز مٹی کی وجہ سے یہاں انواع و اقسام کی فصلوں کی کاشت کی جاتی ہے۔
بارانی خطہ ہونے کی وجہ سے جازان کو میٹھے پانی کی قلت کا سامنا نہیں ہے۔ بارانی پانی جوار کی فصل اگانے کے لیے موزوں ہے۔
مقامی لوگوں نے جہاں دیگر قدرتی وسائل کو زراعت کے لیے استعمال کیا وہاں پہاڑی ڈھلوانوں کو بھی برساتی پانی کے ذریعے فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے انتہائی مہارت سے استعمال کیا۔
وزارت ماحولیات، پانی و زراعت کے اعداد وشمار کے مطابق علاقہ میں آم کے 10 لاکھ درخت ہیں جن کی سالانہ پیداوار 65 ہزار ٹن ہے جبکہ چار لاکھ 80 ہزار انجیر کے درختوں سے سالانہ 9600 ٹن اور امرود کے 5600 درختوں سے 56 ٹن سالانہ پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔

ریجن میں پپیتے کے آٹھ لاکھ درختوں سے 40 ہزار ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے جبکہ 10 لاکھ کیلے کے درختوں کی پیداوار سالانہ 15 ہزار ٹن ہے۔ بہی کے 4200 درختوں سے سالانہ پیداوار 42 ٹن ہے۔
جازان میں پھلوں کے علاوہ سبزیوں کی بھی مختلف اقسام موجود ہیں جن میں ٹماٹر، بینگن، مرچیں اور کھیرا شامل ہیں جو بڑی حد تک علاقے کی ضروریات اور غذائی تحفظ کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

 

شیئر: