’چیف آف ڈیفنس‘ کا نیا عہدہ قائم، کیا آرمی چیف کے تقرر کا بھی نیا نوٹیفکیشن جاری ہو گا؟
’چیف آف ڈیفنس‘ کا نیا عہدہ قائم، کیا آرمی چیف کے تقرر کا بھی نیا نوٹیفکیشن جاری ہو گا؟
جمعرات 13 نومبر 2025 17:24
پاکستان کی حکومت نے مسلح افواج کے انتظامی اور کمانڈ ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے، جن کے تحت ’چیف آف ڈیفنس فورسز‘ کے نام سے ایک نیا عسکری عہدہ تخلیق کیا جائے گا جبکہ ’چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی‘ کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔
ان فیصلوں کے مطابق نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے نظامِ تقرری اور مدتِ ملازمت کے قواعد بھی ازسرِ نو مرتب کیے گئے ہیں، اور اب ان عہدوں کی تعیناتی یا توسیع سے متعلق معاملات کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیے جا سکیں گے۔
یہ اہم فیصلے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے، جس میں پاکستان آرمی ایکٹ، پاکستان ایئر فورس ایکٹ اور پاکستان نیوی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔ کابینہ کے اعلامیے کے مطابق یہ ترامیم 27ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں کی گئی ہیں تاکہ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت مسلح افواج سے متعلق قانونی ڈھانچے کو آئینی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
کابینہ نے واضح کیا کہ ان ترامیم کا مقصد پاکستان کی تینوں مسلح افواج میں فیصلہ سازی کے تسلسل، کمانڈ کے ربط اور جدید جنگی تقاضوں کے مطابق تنظیم نو کو ممکن بنانا ہے۔
نئے ترمیمی قانون کے مطابق پاکستان آرمی میں چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ ساتھ ’چیف آف ڈیفنس فورسز‘ کا نیا عہدہ قائم کیا جائے گا، جس کی مدتِ تعیناتی کا آغاز نوٹیفکیشن کے بعد ہوگا۔
اردو نیوز کو دستیاب ترمیمی بلوں کے مطابق موجودہ آرمی چیف سید عاصم منیر کی مدتِ ملازمت نوٹیفکیشن کے بعد ازسرِِنو تصور کی جائے گی یعنی ان کی مدت ملازمت کا نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ وزیراعظم، آرمی چیف کی سفارش پر پاکستان آرمی کے جرنیلوں میں سے ایک کو ’کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ‘ کے طور پر تین سال کے لیے تعینات کریں گے اور ضرورت پڑنے پر سکیورٹی مفاد میں اس مدت میں مزید تین سال کی توسیع بھی دی جا سکے گی۔
بل میں یہ شق بھی شامل کی گئی ہے کہ کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کی تقرری، دوبارہ تعیناتی یا توسیع کے خلاف کسی عدالت میں سوال نہیں اٹھایا جا سکے گا۔
ترمیمی مسودے کے تحت ’چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی‘ کا عہدہ موجودہ سربراہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ختم کر دیا جائے گا۔ وزارتِ دفاع کے مطابق اس فیصلے سے تینوں افواج کے درمیان رابطے اور آپریشنل ہم آہنگی کے لیے ایک مربوط کمانڈ سسٹم تشکیل دیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ہی قوانین میں ’فیلڈ مارشل‘، ’مارشل آف دی ایئر فورس‘ اور ’ایڈمرل آف دی فلیٹ‘ جیسے اعزازی عہدے بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ اعلیٰ عسکری قیادت کو جدید اور عالمی معیار کے مطابق درجہ بندی فراہم کی جا سکے۔
ترمیمی بل کے تحت ’چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی‘ کا عہدہ موجودہ سربراہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ختم کر دیا جائے گا۔ (فوٹو: آئی ایس پی آر)
ترمیمی بل میں یہ شق بھی شامل ہے کہ وفاقی حکومت، آرمی چیف کی سفارش پر ’وائس چیف آف آرمی اسٹاف‘ یا ’ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف‘ کو یہ ہدایت دے سکتی ہے کہ وہ آرمی چیف کے تمام اختیارات اور فرائض سرانجام دیں، تاکہ کسی غیرمعمولی صورتحال میں فوجی کمان میں تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق یہ قدم افواجِ پاکستان کے انتظامی تسلسل اور فیصلہ سازی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
کابینہ کے اجلاس میں دیگر اہم فیصلے بھی کیے گئے جن میں ’فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ (پروسیجر اینڈ پریکٹس) ایکٹ، 2025‘ کے مسودے کی منظوری شامل ہے، جو آئینی نوعیت کے مقدمات کے لیے ایک نیا قانونی فریم ورک فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 7 نومبر 2025 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی۔