27ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی سے بھی منظور، اپوزیشن کا احتجاج اور واک آؤٹ
27ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی سے بھی منظور، اپوزیشن کا احتجاج اور واک آؤٹ
بدھ 12 نومبر 2025 15:07
سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی دو تہائی اکثریت سے 27ویں آئینی ترمیم کی تمام 59 شقوں کی منظوری دے دی ہے۔
بدھ کو سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِصدارت اجلاس میں اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے سپیکر کے ڈائس کے سامنے دھرنا دیا اور بعدازاں نعرے بازی کرتے ہوئے واک آؤٹ کر گئے۔
تاہم جمعیت علمائے اسلام (ف) کے چار اراکین اجلاس میں موجود رہے اور 27ویں آئینی ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیا۔
وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان نے آئینی ترمیم کی منظوری دو تہائی اکثریت سے دے دی۔ آئین میں ترامیم ایک ارتقائی عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کے بارے میں ابہام موجود تھا۔ سینیٹ سے منظور شدہ بل میں مناسب ترامیم متعارف کرائی جا رہی ہے۔
’چیف جسٹس سپریم کورٹ ہی چیف جسٹس آف پاکستان رہیں گے۔ آرٹیکل 6 میں سنگین غداری کے بارے میں ترمیم کی جا رہی ہے۔ کوئی عدالت بھی آئین شکنی کی توثیق نہیں کر سکتی۔‘
وفاقی وزیر قانون و انصاف کا کہنا تھا کہ ’اب وفاقی آئینی عدالت کو بھی اس فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت بھی آئین شکنی کی توثیق نہیں کر سکتی۔‘
خیال رہے کہ دو روز قبل پیر کو سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا تھا۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں مجوزہ آئینی ترمیم کی 59 شقوں کی مرحلہ وار منظوری دی گئی۔
ترمیم کے حق میں حکومتی اتحاد کو 64 ووٹ ملے جبکہ مخالفت میں ایک بھی ووٹ نہیں آیا۔
وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین میں ترامیم ایک ارتقائی عمل ہے۔ (فوٹو: سکرین گریب)
اس دوران پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے شدید احتجاج کیا، ایجنڈے اور بل کی کاپیاں پھاڑیں، سپیکر ڈائس کے سامنے نعرے بازی کی اور بعد ازاں واک آؤٹ کر دیا۔
چیئرمین سینیٹ نے رائے شماری کے ذریعے ووٹنگ کا آغاز کیا تو ابتدائی طور پر حکومتی اتحاد کے پاس 62 ووٹ موجود تھے، تاہم اسی دوران پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی (ف) کے سینیٹر احمد خان نے بھی حکومتی صف میں کھڑے ہو کر ووٹ دیا، جس سے حکومت کو مطلوبہ 64 ووٹ مل گئے۔