Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’کوئی کارروائی چُھپا کر نہیں کرتے‘، ڈی جی آئی ایس پی آر کی افغانستان پر حملے کی تردید

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر کارروائی کے حوالے سے افغان حکومت کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کوئی کارروائی چھپا کر نہیں کرتا۔‘
منگل کو سینیئر صحافیوں کو دی گئی بریفنگ کے دوران افغانستان کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے مزید کہا کہ ’پاکستان اگر کارروائی کرتا ہے تو اعلان کر کے کرتا ہے، ہم کوئی کارروائی چھپا کر نہیں کرتے۔
افغانستان نے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے پیر کی شب تین مشرقی صوبوں پر فضائی حملے کیے ہیں جن میں کم سے کم 10 شہری ہلاک ہوئے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک بیان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان نے خوست میں ’بمباری‘ کی اور کنڑ اور پکتیکا پر فضائی حملے کیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت ریاست کی طرح فیصلہ کرے نہ کہ نان سٹیٹ ایکٹر کی طرح۔
’ہم ریاست ہیں، ریاست کی طرح ردعمل دیتے ہیں۔ خون اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم پر حملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی کریں۔‘
فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم افغان عوام کے نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہیں۔‘

’جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کا عمل مکمل طور پر قانونی، غیر ضروری قیاس آرائیوں کی کوئی گنجائش نہیں‘

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کا عمل مکمل طور پر قانونی اور عدالتی نوعیت رکھتا ہے، اس لیے اس پر غیر ضروری قیاس آرائیوں کی کوئی گنجائش نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک قانونی طریقہ کار ہے جسے مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے، لہٰذا اس پر اندازوں یا تبصروں سے گریز کیا جائے۔‘
انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے تمام مراحل قانون کے مطابق ہوتے ہیں اور اسی طریقہ کار کے تحت جنرل (ر) فیض حمید کے معاملے میں پیش رفت جاری ہے۔
’جب یہ مرحلہ مکمل ہو جائے گا اور کوئی فیصلہ سامنے آئے گا تو ہم باضابطہ طور پر میڈیا کو آگاہ کریں گے۔‘
بریفنگ میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مختلف کمیٹیاں کام کر رہی ہیں اور ان میں فوج کے نمائندے بھی شامل ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’بلوچستان حکومت صرف دہشت گردی ہی نہیں بلکہ معیشت کے خلاف بننے والے گٹھ جوڑ کو روکنے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ ’نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر فوری پابندی عائد کی جائے۔ دہشت گردی کے بہت سے واقعات میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں استعمال ہوئیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل کیا جا رہا ہے، جبکہ قومی سلامتی کے حساس معاملات پر غیر ذمہ دارانہ قیاس آرائیاں نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں، اس لیے ایسے معاملات میں میڈیا سمیت تمام حلقوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

 

 

شیئر: