Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کے فضائی حملوں کا ’مناسب وقت پر‘ جواب دیں گے: افغانستان کی دھمکی

پیر کو پشاور میں تین خودکش حملہ آوروں نے ایف سی کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
افغانستان کی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کے فضائی حملوں کا ‘مناسب وقت پر جواب دیا جائے گا۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کو ایکس پر ایک میں بیان میں کہا کہ ’امارت اسلامیہ اس خلاف ورزی اور جرم کی شدید مذمت کرتی ہے اور اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ اپنی فضائی حدود، سرزمین اور لوگوں کا دفاع اس کا جائز حق ہے، اور وہ مناسب وقت پر اس کا مناسب جواب دے گا۔‘
اس سے قبل افغانستان نے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے گزشتہ شب تین مشرقی صوبوں پر فضائی حملے کیے ہیں جن میں کم سے کم 10 شہری ہلاک ہوگئے۔
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر کارروائی کے حوالے سے افغان حکومت کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کوئی کارروائی چھپا کر نہیں کرتا۔‘
منگل کو ایکس پر ایک بیان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان نے خوست میں ’بمباری‘ کی اور کنڑ اور پکتیکا میں فضائی حملے کیے۔
گزشتہ رات تقریباً 12 بجے صوبہ خوست کی ضلع گربزو کے علاقے مغلگے میں پاکستانی فوج نے ایک مقامی شہری، ولایت خان ولد قاضی میر کے گھر پر بمباری کی۔‘
ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق کنڑ اور پکتیکا میں فضائی حملوں میں چار افراد زخمی ہوئے۔
طالبان کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پیر کو پشاور میں تین خودکش حملہ آوروں نے ایف سی کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا تھا جس میں تین اہلکار جان سے گئے اور تین اہلکاروں سمیت کم سے کم 9 افراد زخمی ہوئے۔

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق کنڑ اور پکتیکا میں فضائی حملوں میں چار افراد زخمی ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)

حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار ہوئے کیونکہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا بنیادی نکتہ ہے۔  
پاکستان نے سرحد پار دہشت گرد حملوں کی روک تھام کے لیے افغانستان کی عبوری حکومت سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار ہوئے۔
اکتوبر ہی میں دونوں فریقوں نے قطر کی ثالثی میں جنگ بندی پر دستخط کیے تھے، لیکن ترکی میں امن مذاکرات شدت پسند گروپوں پر اختلاف کی وجہ سے بغیر کسی طویل مدتی معاہدے کے ختم ہو گئے تھے۔

شیئر: