Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز کے گیٹ پر خودکش حملہ، تین اہلکار جان سے گئے

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹرز کے گیٹ پر خودکش حملے میں تین اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے۔
پیر کو میڈیا سے گفتگو میں سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے بتایا کہ ’گیٹ پر موجود تین اہلکار خودکش حملے میں شہید ہوگئے۔ ایک خودکش حملہ آور نے خود کو مین گیٹ پر اڑایا جبکہ دو نے ہیڈکوارٹر میں گھسنے کی کوشش کی لیکن ایف سی اہلکاروں کی فائرنگ میں مارے گئے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹرز پر حملہ آٹھ بج کر 10 منٹ پر ہوا۔
میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ایف سی ہیڈکوارٹر میں کلیئرنس آپریشن مکمل ہو گیا ہے۔ 
ابھی تک کسی بھی مسلح تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
حملے کے بعد سنہری مسجد روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا اور ٹریفک کو صدر روڈ کی جانب موڑا گیا۔
دوسری جانب لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق ایف سی کے تین اہلکاروں سمیت چھ دیگر زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا۔ 
ترجمان محمد عاصم نے کہا کہ اس وقت زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

حملے میں تین ایف سی اہلکاروں سمیت 9 افراد زخمی ہوئے۔ (فوٹو: ریسکیو 1122)

’بروقت کارروائی کی بدولت بڑے نقصان سے بچ گئے‘
وزیراعظم شہباز شریف نے ایف سی ہیڈکوارٹرز پر دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کی بدولت بڑے نقصان سے بچ گئے۔
انہوں نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی سالمیت پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے مزموم عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔ حکومت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے۔‘
خیبر پختونخوا کے وزیراعلٰی نے آئی جی پولیس سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کر لی۔
وزیراعلٰی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ مزید مضبوط عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔ قیامِ امن اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔‘

شیئر: