صوبائی حکومت کا پنجابی زبان کے فروغ کا نوٹیفکیشن، شناخت کی بحالی یا سیاست؟
صوبائی حکومت کا پنجابی زبان کے فروغ کا نوٹیفکیشن، شناخت کی بحالی یا سیاست؟
جمعہ 28 نومبر 2025 6:45
رائے شاہنواز - اردو نیوز، لاہور
احمد رضا وٹو کے مطابق وزیراعلٰی مریم نواز ایک روشن خیال وزیراعلٰی ہیں جنہوں ایک نئی نظیر قائم کر دی ہے۔ (فائل فوٹو: سکرین گریب)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے حال ہی میں تمام ضلعی ایجوکیشن اتھارٹیز کو ایک اہم سرکاری نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کا مقصد سرکاری سکولوں میں پنجابی زبان اور علاقے کی مقامی بولیوں کو فروغ دینا ہے۔
اس نوٹیفکیشن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ وزیراعلٰی پنجاب کی ہدایات کے مطابق تمام پبلک سکولوں کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ طلبہ میں پنجابی بولنے کی شائستہ روایت کو فروغ دیں، انہیں مہذب اور باوقار لہجے میں اپنی مادری زبان بولنا سکھائیں، اور غیررسمی یا غیرمعیاری الفاظ کے استعمال سے گریز کروائیں۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی شامل ہے کہ پنجاب کے جنوبی اور شمالی علاقوں میں سرائیکی اور پوٹھوہاری جیسی مقامی زبانوں کو بھی اسی توجہ کے ساتھ فروغ دیا جائے اور سکول اپنے مقامی لسانی پس منظر کے مطابق سرگرمیاں ترتیب دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہیڈ ماسٹرز کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ طلبہ کے لیے ایسی تربیتی سرگرمیاں اور مشقیں منعقد کریں جن میں بچے اپنی مقامی زبان روانی اور احترام کے ساتھ بول سکیں۔
اس نوٹیفکیشن میں ایک اور دلچسپ شق یہ ہے کہ سکولوں کو کہا گیا ہے کہ وہ طلبہ کی پنجابی یا مقامی زبان میں گفتگو کی مختصر ویڈیوز بنا کر ضلعی دفتر کو بھیجیں تاکہ انہیں سرکاری سطح پر مرتب کر کے آگے بھجوایا جا سکے۔
اگر پنجاب کے سماجی منظر نامے پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ طویل عرصے تک پنجابی زبان تعلیمی اداروں اور شہری متوسط و اعلیٰ طبقے میں نظرانداز ہوتی رہی ہے۔ گھریلو زبان ہونے کے باوجود اسے رسمی تعلیم، سرکاری امور اور پیشہ ورانہ ترقی کے تناظر میں وہ حیثیت کبھی نہیں دی گئی جو اسے ملنی چاہیے تھی۔ اس کے برعکس اردو اور انگریزی کو ترقی، عزت اور جدیدیت کی علامت سمجھا گیا، جبکہ پنجابی کو ’غیرمہذب‘، ’دیہاتی زبان‘ یا ’کم تر‘ سمجھنے کا رویہ مضبوط رہا۔
تاہم گذشتہ چند برسوں میں پنجاب میں ایک نئی لسانی خود شناسی جنم لے رہی ہے۔ سماجیات اور لسانیات کے کئی ماہرین کے مطابق یہ رجحان محض زبان کا سوال نہیں بلکہ ’ثقافتی شناخت کی بحالی‘ کا حصہ ہے۔
سیاسی سطح پر بھی اس تبدیلی کے واضح آثار نظر آتے ہیں۔ اگرچہ سابق وزیراعلٰی پنجاب عثمان بزدار کے دور میں پہلی مرتبہ باقاعدہ ’پنجابی کلچر ڈے‘ جیسے اقدامات کی بنیاد رکھی گئی، مگر موجودہ حکومت نے پنجابی زبان اور ثقافت کو جس طرح سرکاری سطح پر اپنایا ہے اس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔
وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز کے دور میں پہلی مرتبہ واضح حکومتی مؤقف سامنے آیا ہے کہ پنجابی زبان کو نصابی، تدریسی اور سرکاری سرگرمیوں میں ایک باوقار حیثیت دی جائے۔
مبصرین کے مطابق یہ لسانی اعلان دراصل سیاسی شناخت کی نئی سمت بھی ہے جس کے ذریعے پنجاب اپنی ثقافت کو نئی خود اعتمادی کے ساتھ اپناتا دکھائی دے رہا ہے۔
گذشتہ چند برسوں میں پنجاب میں ایک نئی لسانی خود شناسی جنم لے رہی ہے۔ (فائل فوٹو: اردو نیوز)
تاہم حقیقت کا دوسرا پہلو اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ پنجاب کے وہ علاقے جہاں انگریزی میڈیم اور نجی مہنگے سکولوں کی اکثریت ہے، وہاں پنجابی بولنا آج بھی ناگواری یا کم تر سماجی شناخت سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ کئی والدین اب بھی اپنے بچوں کو پنجابی بولنے سے روکتے ہیں اور اسے ’غیر مہذب‘ یا ’پسماندہ‘ تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں یہ سرکاری نوٹیفکیشن کس حد تک عملی تبدیلی پیدا کر سکے گا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
ماہرین تعلیم کے مطابق زبان صرف سکول کی ہدایات سے نہیں بدلتی، اس کے لیے سماجی رویوں، والدین کے رجحانات اور معاشرے کی مجموعی فکری سمت میں بھی تبدیلی ضروری ہے۔
اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ اس نوٹیفکیشن نے ایک علامتی اور عملی دونوں طرح کا رخ متعین کیا ہے کہ پنجاب اب اپنی مادری زبانوں کو رسمی اداروں کا حصہ بنا رہا ہے۔ تاہم اس نوٹفیکیشن پر پنجابی زبان کی ترویج کرنے والے حلقوں کی طرف سے سرائیکی اور پوٹھوہاری لہجوں کو پنجابی زبان سے الگ سمجھنے پر تنقید بھی ہو رہی ہے۔
پنجابی زبان اور ثقافت کی ترویج کے لیے کام کرنے والی تنظیم پنجابی پرچار کے سربراہ احمد رضا وٹو نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ابھی ہم ذیلی بحث کا حصہ نہیں بننا چاہتے کہ ابھی تو ہم اس خوشی کو ہضم کر رہے ہیں کہ سرکار نے بالآخر وہ کام کیا ہے جس کا مطالبہ ہم کئی برسوں سے کر رہے تھے یعنی سکولوں میں پنجابی کو عام کرنا۔ یہ حکم نامہ جو جاری کیا گیا ہے میرے خیال میں اس نے پنجابی کو پنجاب میں زندہ کرنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔‘
پنجاب کے وہ علاقے جہاں انگریزی میڈیم سکولوں کی اکثریت ہے، وہاں پنجابی بولنا آج بھی ناگواری یا کم تر سماجی شناخت سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ (فائل فوٹو: فری پک)
حالیہ چند برسوں میں پنجابی زبان مرکز نگاہ کیوں بن رہی ہے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ سوشل میڈیا نے سماجی ڈھانچہ بدل دیا ہے۔ گلوبل کلچر میں جس طرح مشرقی پنجاب (انڈین پنجاب) میں دلجیت دسانجھ جیسے فنکاروں اور اس سینما نے جو رنگ بھرا ہے اس سے ہماری طرف بھی لوگوں میں شعور آنا شروع ہو گیا۔‘
احمد رضا وٹو کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے پنجابی کو اپنانے کے لیے جو اقدامات ابھی ہو رہے وہ تاریخی ہیں اور یہ خود لوگوں کا مطالبہ ہے نہ کہ ریاستی آئیڈیا۔ وزیراعلٰی مریم نواز ایک روشن خیال وزیراعلٰی ہیں جنہوں نے ایک نئی نظیر قائم کر دی ہے، جس طرح وہ خود پنجاب اور پنجابی کو نمایاں کرتی ہیں اس سے پہلے کسی وزیراعلٰی نے ایسا نہیں کیا۔‘