سعودی ہیریٹج کمیشن نے کہا ہے کہ حائل ریجن کے ساحوت علاقے میں 13 ہزار 500 برس قدیم انسانی آبادی کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔
نیچر کمیونیکیشنز جریدے میں شائع ایک سائنسی تحقیق میں آثارقدیمہ کے شواہد کا ذکر کیا گیا ہے جو مملکت کے شمالی جانب پائے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
الیمامہ آثار قدیمہ سروے کے تحت 337 قدیم مقامات کی نشاندہیNode ID: 896173
-
العلا میں آثار قدیمہ کی دریافتوں پر نئی ریسرچ کیا کہتی ہے؟Node ID: 898430
ہیریٹج کمیشن نے ایکس اکاؤنٹ پر بتایا کہ ساحوت سائٹ پر ’سرسبز جزیرہ العربیہ‘ منصوبے کے تحت کھدائی میں دریافت ہونے والے آثار قدیمہ کا سائنسی تجزیہ کیا گیا جس میں یہ ثابت ہوا کہ جزیرہ العربیہ کے شمالی سمت میں 13 ہزار 500 برس قبل یہاں انسانی آبادی رہی تھی۔
ریسرچ میں ایسے نتائج بھی سامنے آئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس عرصے کے دوران انسانی معاشروں کے درمیان ثقافتی تبادلے کا عمل بھی ہوتا تھا۔
تجزیوں میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس دور میں علاقے میں چٹانی آرٹ بھی رائج تھا جس کے ذریعے اس دور کے انسان اپنی موجودگی کا اظہار کیا کرتے تھے۔
موقع ساحوت بمنطقة حائل، يكشف عن جوانب النشاط الثقافي للمجتمعات البشرية التي استوطنت المنطقة منذ 13,500 عام من وقتنا الحاضر.#الجزيرة_العربية_الخضراء#هيئة_التراث pic.twitter.com/wH3w2MuynD
— هيئة التراث (@MOCHeritage) March 5, 2026
دریافت ہونے والی قدیم ترین تہذیب کے اثرات سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ مملکت قدیم ترین انسانی آبادی اور ثقافتی سرگرمیوں کا گہوارہ ہے جو ہزاروں سالوں پر محیط تھی۔











