لاہور، کراچی، فیصل آباد اور پشاور تک پھیلی ’پاکستان کی پرچی معیشت‘ کیا ہے؟
لاہور، کراچی، فیصل آباد اور پشاور تک پھیلی ’پاکستان کی پرچی معیشت‘ کیا ہے؟
جمعہ 6 مارچ 2026 6:29
رائے شاہنواز - اردو نیوز، لاہور
اہور کے بازاروں میں ’پرچی معیشت‘ اربوں روپے کا کاروبار چلا رہی ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
لاہور کے شاہ عالمی گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہی ایک عجیب دنیا شروع ہو جاتی ہے۔ تنگ بازار اور چھوٹی گلیوں میں کئی اقسام کی بو آپ کا استقبال کرتی ہے اور رش کی وجہ سے پیدل چلنا بھی ایک کھٹن مرحلہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ لاہور کے سب سے بڑی کاروباری مارکیٹوں میں سے ایک ہے جہاں اربوں روپے کا بزنس ہوتا ہے۔
اتنی بڑی مارکیٹ میں آپ کو خال ہی کسی دکان پر کوئی پی او ایس یا کارڈ کے ذریعے پیمنٹ کی سہولت ملے گی۔ اردگرد چند ایک بینکوں کی عمارتیں دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید یہاں لوگ اے ٹی ایم بھی استعمال نہیں کرتے۔ تو پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہاں کاروبار ہوتا کیسے ہے؟ اس کا سادہ سا جواب ہے: زبانی یا پرچی پر۔ جہاں لاکھوں روپے کا مال صرف ضمانت پر منٹوں میں ادھر سے ادھر ہوتا ہے۔
یہ پاکستان کی ’پرچی معیشت‘ ہے جو لاہور، کراچی، فیصل آباد اور پشاور ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے۔ یہ غیردستاویزی معیشت کا وہ حصہ جو پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے تاجروں کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔ زبانی وعدوں، ہاتھ سے لکھی ہوئی رسیدوں اور ’ساکھ‘ کی بنیاد پر چلنے والا یہ نظام بینکوں اور حکومت کی نظر سے اوجھل رہتا ہے۔
اردو نیوز نے لاہور کے مختلف تاجروں سے بات کی ہے اور اس نظام کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم رازداری کی بنیاد پر ان کے نام تبدیل کیے جا رہے ہیں۔
برانڈرتھ روڈ کے ایک تاجر محمد علی کہتے ہیں کہ ’ہم نے تو اس کو نسل در نسل ہی دیکھا ہے ہم یہاں بیرنگ کا کام کرتے ہیں اور ہماری تیسری نسل ہے۔ ہماری اس علاقے میں ساکھ ہے۔ ہر بندہ جانتا ہے تو جہاں کہیں سے مال اٹھانا ہو تو پرچی چلتی ہے۔ صرف ایک پرچی پر تاریخ اور دستخط اور رقم لکھی ہوتی ہے اور یہ پرچی دے کر سامان اٹھا لیا جاتا ہے۔ یہ اتنا آسان طریقے سے ہوتا ہے کہ ایک منٹ کی بھی دیر نہیں ہوتی۔ اور اس میں ساکھ کا بڑا کردار ہوتا ہے۔‘
حاجی محمد اکرم جو شاہ عالمی میں کراکری کے بڑے تاجر ہیں۔ وہ بھی 40 سال سے ایسا کر رہے ہیں۔ ان کے پاس کوئی کمپیوٹر نہیں، بس ایک پرانا رجسٹر اور دراز میں پرچیوں کا ڈھیر۔ ایک پرچی دوسری پرچی سے ادا ہو جاتی ہے۔ کوئی بینک نہیں، کوئی ٹیکس نہیں اور نہ ہی کوئی پی او ایس مشین۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ایسا نہیں کہ پرچی پر کام کوئی چوری ہے بس یہ آسان ہے آخر میں تو یہ پرچی پیسے میں تبدیل ہوتی ہے۔ میں خود اپنے اکاؤنٹ میں جمع کرواتا ہوں اور ٹیکس بھی دیتا ہوں۔‘
یہ نظام کیسے چلتا ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے محمد اکرم کہتے ہیں کہ ’ایک سادہ مثال یہ ہے کہ ایک چھوٹا دکاندار فیکٹری سے مال لیتا ہے۔ فیکٹری والا اسے پرچی دے دیتا ہے ’فلاں شخص کو 2 لاکھ روپے ادا کریں۔‘ دکاندار یہ پرچی دوسرے سپلائر کو دے دیتا ہے جو اس فیکٹری سے ہی مال لیتا ہے۔ آخر میں کوئی بڑا ’سیٹلر‘ سب پرچیوں کو اکٹھا کر کے نقد میں حساب بنا دیتا ہے۔‘
لاہور کے ان بازاروں میں یہ پرچی معیشت اربوں روپے کا کاروبار چلا رہی ہے۔ ٹیکس حکام جب چھاپے مارتے ہیں تو تاجر پرچیوں کو چھپا لیتے ہیں یا کہتے ہیں ’یہ تو ذاتی قرض ہے۔‘ حکومت کی ڈیجیٹلائزیشن کی کوششیں، پی او ایس مشینیں، ٹریک اینڈ ٹریس لگانے کی کوشش کر رہی ہے تاہم ابھی تک کامیاب نہیں ملی۔ بلکہ تاجروں نے پی او ایس مشینوں کے خلاف کئی احتجاج بھی کیے ہیں۔
’ساکھ‘ کی بنیاد پر چلنے والا یہ نظام حکومت کی نظر سے اوجھل رہتا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
مگر یہ پرچی نظام مکمل طور پر خرابیوں سے مبرا نہیں۔ اگر کوئی بڑا تاجر ڈیفالٹ کر جائے تو پورا سلسلہ رک جاتا ہے۔ حاجی اکرم بتاتے ہیں کہ ’ایک بار 2018 میں ایسا ہوا تھا،ایک بروکر پرچیوں پر 5 کروڑ کا مال لے کر غائب ہو گیا، تو اس طرح کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی ایسا کرے تو وہ ایک ہی بار ہے اس کے بعد مارکیٹ میں قدم نہیں رکھ سکتا۔‘
ماہر معیشت ڈاکٹر قیس اسلم کہتے ہیں کہ ’یہ بات آسانی کی نہیں ٹیکس چوری کی ہے۔ پرچی پر خریدوفروخت میں ہر ٹرانزیکشن کا سیلز ٹیکس کھا لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی اَن ڈاکیومینٹڈ اکانومی اتنی بڑی ہے کہ اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ اس کا صرف ایک ہی حل ہے اور وہ ہے حکومت اس کو ریگولرائز کرے اور ابھی آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے باعث کچھ ہلچل ہوئی تو ہے لیکن اب بھی تجارتی خسارہ 5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ حکومت میں بیٹھے لوگ خود اس سسٹم کے بینیفشری ہیں، یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ لیکج اتنی زیادہ ہے کہ یہ چھوٹی موٹی اصلاحات بالکل بے اثر ہیں۔ سب کو پتا ہے کہ یہ نظام کیسے چل رہا ہے لیکن ہاتھ کوئی نہیں ڈالتا۔‘