پاکستان کو ترکیہ اور آذربائیجان پر حملوں پر تشویش، ’فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں‘
ایران کی مسلح افواج نے کہا ہے کہ انہوں نے ترکیہ کی جانب کوئی میزائل نہیں داغا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان نے ترکیہ اور آذربائیجان کو ٹارگٹ کرتے ہوئے حالیہ حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ حملے بین الاقوامی قانون اور بین الریاستی تعلقات کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔‘
پاکستان نے ترکیہ اور آذربائیجان کے ساتھ اپنی مضبوط یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے فریقین سے ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور علاقائی امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کے استعمال پر زور دیا ہے۔
خیال رہے ترکیہ کی وزارتِ دفاع نے بدھ کے روز کہا تھا کہ ایران سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل شام اور عراق سے گزرتے ہوئے ترک فضائی حدود میں داخل ہو رہا تھا۔
وزارت نے بیان میں کہا تھا کہ بیلسٹک میزائل مشرقی بحیرۂ روم میں نیٹو کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی نہیں ہوا۔
بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ترکیہ اپنے خلاف کسی بھی معاندانہ اقدام کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے، اور متعلقہ فریقین کو خبردار کیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو تنازع کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
دوسری جانب جمعرات کو ایران کی مسلح افواج نے کہا ہے کہ وہ ترکیہ کی خودمختاری کا احترام کرتی ہے اور اس کی جانب کوئی میزائل نہیں داغا۔
روئٹرز کے مطابق ایران کی مسلح افواج کا یہ بیان ایران کے سرکاری میڈیا نے جمعرات کو رپورٹ کیا ہے۔
