وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں ٹریفک کے جدید نظام، روڈ سیفٹی اور نظم و نسق پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں ہیلمٹ، چھتوں پر سواریاں بٹھانے اور دیگر خلاف ورزیوں کے چالان کی رپورٹس پیش کی گئیں۔
انہوں نے لاہور میں ٹریفک کی صورتحال کی بہتری کے لیے 30 دن کی ڈیڈ لائن جاری کر دی ہے۔
اجلاس میں طے پایا کہ پنجاب میں کسی بھی گاڑی کا بار بار چالان ہونے کی صورت میں وہ گاڑی نیلام کر دی جائے گی جبکہ سرکاری گاڑیوں کو بھی قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے کا سامنا کرنا ہوگا۔
صوبے میں ون وے کی خلاف ورزی ختم کرنے کے لیے 30 دن کی خصوصی مہلت دی گئی ہے، اور یو ٹرن کی ری ماڈلنگ کے ذریعے سڑکوں کو زیادہ محفوظ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں بغیر مناسب پارکنگ کے کوئی میرج ہال قائم نہیں ہو سکے گا اور موجودہ ہالز کے لیے بھی پارکنگ کا بندوبست لازمی قرار دیا جائے گا۔
کم عمر افراد کی ڈرائیونگ کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ انڈر ایج ڈرائیونگ کی صورت میں گاڑی کے مالک کو 6 ماہ تک قید بھی ہو سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور میں ٹریفک کی صورتحال کی بہتری کے لیے 30 دن کی ڈیڈ لائن جاری کر دی ہے (فوٹو: اُردو نیوز)
اسی طرح پنجاب بھر میں بس کی چھت پر سفر کرنے پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔ ٹریفک حادثات میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو دیت کی فوری فراہمی پر بھی اتفاق ہوا۔
ٹریفک کی بہتری اور شہریوں کی حفاظت کے لیے لاہور کی پانچ ماڈل سڑکوں پر چنگ چی رکشوں پر مکمل پابندی بھی لگائی جا رہی ہے۔
ٹریفک پولیس کے لیے ’آخری چانس‘
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ دوسرے شہر جانے والی گاڑیوں کو تیز رفتاری پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور لاہور سمیت تمام شہروں میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ کسی قسم کی امتیازی رعایت نہ دی جائے، ہر خلاف ورزی پر جرمانہ ہوگا۔
مریم نواز نے ٹریفک پولیس کو خبردار کیا کہ ’یہ آخری چانس ہے، اگر بہتری نہ لائی گئی تو نیا ڈیپارٹمنٹ بنانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہر چیز بہتر ہو چکی مگر ٹریفک کا برا حال ہے، ٹریفک قوانین کی مسلسل خلاف ورزی اور بے ہنگم ٹریفک ریاستی رٹ کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔‘
لاہور میں سرکاری محکموں کی ای چالان ڈیفالٹر گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاون
ٹریفک پولیس لاہور نے مختلف سرکاری محکموں کی ای چالان ڈیفالٹر گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 24 گھنٹوں میں 209 سرکاری گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی۔
سی ٹی او لاہور ڈاکٹر اطہر وحید کے احکامات پر کی گئی اس کارروائی میں مجموعی طور پر 55 سرکاری محکموں کی گاڑیاں شامل تھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’اگر بہتری نہ لائی گئی تو نیا ڈیپارٹمنٹ بنانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔‘ (فوٹو: اُردو نیوز)
ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران 1282 ای چالانوں کا جرمانہ ریکور کر کے سرکاری خزانے میں جمع کروایا گیا۔
ڈاکٹر اطہر وحید نے کہا کہ ٹریفک پولیس کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ قانون کی خلاف ورزی چاہے سرکاری گاڑی بھی کرے، اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ’جب ہم خود پر قوانین کا اطلاق نہیں کریں گے تو عام شہری پر کارروائی کیسے کر سکتے ہیں۔‘
سی ٹی او لاہور ڈاکٹر اطہر وحید کا کہنا تھا کہ سرکاری محکموں کے افسران کو ان کے محکمے کی ای چالان ڈیفالٹر گاڑیوں کے جرمانوں کی ادائیگی کے حوالے سے خط بھی لکھے جا چکے ہیں۔