Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سری لنکا میں طوفان سے ہلاکتوں کی تعداد 132، ایمرجنسی نافذ

سری لنکا میں سائیکلون ڈٹواہ کے باعث شدید بارشوں اور سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 132 تک پہنچ گئی اور سنیچر کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 176 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر (ڈی ایم سی) کے مطابق اس شدید موسم نے 15 ہزار سے زائد گھروں کو تباہ کر دیا ہے اور 78 ہزار افراد کو سرکاری عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
صدر انورا کمارا ڈیسنايکے نے ایمرجنسی قوانین نافذ کیے جس سے انہیں جزیرے پر ایک ہفتے سے جاری طوفانی بارشوں کے بعد تباہی سے نمٹنے کے لیے وسیع اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔
ڈی ایم سی کے ڈائریکٹر جنرل سمپت کوٹویگوڈا نے کہا کہ ’ہمارے پاس 132 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے اور مزید 176 افراد لاپتہ ہیں۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ امدادی کارروائیوں کو فوج، بحریہ اور فضائیہ کی تعیناتی کرکے تیز کر دیا گیا ہے۔
فوج نے سنیچر کو 69 بس مسافروں کو بچایا جن میں ایک جرمن سیاح بھی شامل تھا، جو انورادھاپورا ضلع میں پھنس گئے تھے۔ یہ کارروائی ہیلی کاپٹر اور بحری کشتیوں کے ذریعے 24 گھنٹے تک جاری رہی۔
ایک مسافر نے مقامی ہسپتال میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بحریہ کے اہلکاروں نے انہیں رسیوں کی مدد سے سیلابی پانی عبور کروا کر قریبی گھر کی چھت پر چڑھنے میں مدد دی۔
شانتا نے کہا کہ ’ہم بہت خوش قسمت تھے، جب ہم چھت پر تھے تو اس کا ایک حصہ گر گیا اور تین خواتین پانی میں گر گئیں، لیکن انہیں دوبارہ چھت پر چڑھا لیا گیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر کو ابتدائی ریسکیو کوشش منسوخ کرنا پڑی کیونکہ اس کے پنکھوں کی ہوا چھت کو اڑا دینے کا خطرہ پیدا کر رہی تھی۔ بعد میں انہیں بحری کشتیوں کے ذریعے بچایا گیا۔

حکام نے بتایا کہ ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ بجلی اور پانی سے محروم ہے (فوٹو: اے ایف پی)

بدولا کے مرکزی ضلع میں سڑکیں ناقابل رسائی رہیں جس سے کئی دیہات کٹ گئے اور امدادی سامان پہنچانا ممکن نہ رہا۔
حکام نے بتایا کہ ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ بجلی اور پانی سے محروم ہے کیونکہ بجلی کی لائنیں گر گئی ہیں اور پانی صاف کرنے کے پلانٹ ڈوب گئے ہیں۔ کئی علاقوں میں انٹرنیٹ کنکشن بھی متاثر ہوا ہے۔
سائیکلون ڈٹواہ سنیچر کو جزیرے سے دور ہو گیا اور اب شمال کی طرف پڑوسی ملک انڈیا کی جانب بڑھ رہا ہے۔

شیئر: