افغانستان کے دارالحکومت کابل کے وسطی علاقے میں ایک زور دار دھماکے اور پھر مسلسل گولیوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے صحافیوں کے مطابق طالبان حکومت نے اتوار کو کہا ہے کہ افغان فورسز نے پاکستانی طیاروں کی نئی دراندازی پر انہیں نشانہ بنانے کے لیے فائرنگ کی ہے۔
گزشتہ کئی ماہ سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی جھڑپیں جاری ہیں لیکن جمعرات سے ان میں شدت آگئی ہے۔
مزید پڑھیں
-
افغانستان کے خلاف کارروائی کو ’غضب للحق‘ کا نام کیوں دیا گیا؟Node ID: 901187
یہ سب تب شروع ہوا جب افغانستان نے سرحد پر کارروائی کی جس کے جواب میں پاکستانی فورسز نے سرحد اور فضاء سے جوابی حملے کیے۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اتوار کو بتایا کہ کابل میں پاکستانی طیاروں پر اینٹی ایئر کرافٹ گنوں سے گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔
دوسری طرف پاکستان نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے جمعے کو کابل اور قندھار سمیت اہم شہروں پر بمباری کی تھی۔
افغان حکام نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے حملوں میں عام شہری مارے گئے ہیں تاہم اسلام آباد نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
جنوبی قندھار میں کام کرنے والے مزدوروں نے بتایا کہ اتوار کو ان پر دو فضائی حملے ہوئے جس میں تین افراد ہلاک ہوئے۔
20 سالہ انعام اللہ نے بتایا ’ہماری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ میں کابل سے یہاں صرف روزی روٹی کمانے آیا تھا۔‘
افغان حکام کے مطابق انہوں نے جمعرات کو سرحد پر جو حملہ کیا تھا وہ ان فضائی حملوں کا جواب تھا جن میں شہری مارے گئے تھے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا۔

طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے کہا کہ جمعرات سے اب تک پاکستانی فائرنگ سے مشرقی صوبوں خوست، کنڑ اور پکتیکا میں 30 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
کابل اور سرحد کے درمیان سڑک پر موجود اے ایف پی کے صحافی نے سنیچر کو جلال آباد میں ایک جیٹ طیارے اور دو دھماکوں کی آواز سنی۔
افغان سیکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک پاکستانی جنگی طیارہ گرا کر اس کے پائلٹ کو پکڑ لیا ہے لیکن اسلام آباد نے اسے ’مکمل جھوٹ‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔
سرحدی علاقوں پکتیکا اور خوست میں شدید فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔
خوست کے ایک 63 سالہ شہری محمد رسول جو اپنا گھر چھوڑ کر محفوظ مقام پر پہنچے، انہوں نے بتایا ’بمباری شروع ہوئی تو بچے، عورتیں اور ہر کوئی بس گھر سے نکل بھاگا۔ کئی افراد کے پاس جوتے نہیں تھے اور خواتین نے پردہ تک نہیں کیا ہوا تھا۔‘

سعودی عرب اور قطر اس لڑائی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ چین نے بھی دونوں ملکوں سے سکون برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ تاہم امریکہ نے پاکستان کے دفاع کے حق کی حمایت کی ہے۔
پاکستان کا الزام ہے کہ طالبان حکومت ان شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی جو پاکستان پر حملے کرتے ہیں جن میں تحریک طالبان پاکستان سب سے نمایاں ہے۔ افگان طالبان ان الزامات کو غلط قرار دیتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان نے شدت پسندوں کے بجائے براہِ راست افغان حکومت کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
پاکستانے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے سنیچر کی شب ایکس پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اب تک پاکستانی فورسز کے حملوں میں 352 افغان طالبان اہلکار ہلاک جبکہ 535 زخمی ہوئے ہیں۔












