Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ظہران میں ’انٹرنیٹ کیفے‘ نمائش، سعودی طلبا نے پرانے دور کی یادیں تازہ کیں

’انٹرنیٹ کیفے‘ ماضی میں لوگوں کے لیے ایک مقبول ترین مقام تھا (فوٹو: عرب نیوز)
ظہران میں تین روزہ ’انٹرنیٹ کیفے‘ نمائش کا اختتام پذیر ہوگئی، جس کا اہتمام کنگ فہد یونیورسٹی آف پیٹرولیم اینڈ منرلز نے کیا تھا۔ ’ کے ایف یو ایم پی‘ سٹوڈنٹس افیئرز اس تقریب کے شراکت کار تھے۔
نمائش میں’انٹرنیٹ کیفے‘ کے دور یادیں پھر تازہ کی گئیں جو ماضی میں لوگوں کے لیے ایک مقبول ترین مقام ہوا کرتا تھا جہاں وہ 1990 سے 2000 کی دہائی کے دوران پیسے ادا کر کے ای میلز چیک کر لیتے یا ویب کو براؤز کر لیا کرتے تھے۔

اس ایونٹ کی سربراہی جنریشن زی کے ان طلبا نے کی جن کی عمریں بیس برس کے قریب تھیں۔ ان میں دیوان کی بانی فجر المندیل اور کریئیٹِو ڈائریکٹر وطین الزاہرانی شامل تھے، لیکن تقریب کو ہر عمر کے افراد نے پسند کیا۔
اگرچہ ان کی پیدائش انٹرنیٹ کیفے کے زمانے کے بعد کی ہے لیکن ان نوجوانوں نے ایک جدید ماحول میں اس تجربے کو پھر سے زندہ کر کے دیکھنے کا فیصلہ کیا جس میں شریک ہونے والوں کو اپنی پرانی یادیں تازہ کرنے اور ڈیجیٹل تاریخ کے ایک حصے کو دریافت کرنے کا موقع ملا۔

فجر المندیل کا کہنا تھا کہ ’انھیں اس نمائش کے انعقاد کی تحریک کیمپس میں وقت گزارنے اور اس عمارت سے جڑی کہانیاں دریافت کرنے سے ملی۔‘
’ کے ایف یو ایم پی‘ سنہ 1963 میں ہوا تھا جس میں صرف لڑکوں کو ہی داخلہ ملتا تھا لیکن حال ہی میں خواتین بھی یہاں داخل ہوئی ہیں جو گریجویشن کرنے والے پہلے گروپ میں شامل ہوں گی۔

الزاہرانی نے بتایا ’اس تقریب کا سب سے لطف انگیز حصہ وہ تھا جب ’ کے ایف یو ایم پی‘ کے سابق طالب علموں نے یونیورسٹی کو بہت پسند کیا اور آرکائیوز میں سے پرانی چیزیں نکال کر دیکھیں۔ ان کے ساتھ اس طرح مربوط ہونا دل خوش کر دینے والا تجربہ تھا۔‘
اس نمائش میں 14 فنکاروں نے حصہ لیا جن میں سعودی اور بین الاقوامی کریئیٹرز شامل تھے۔ نمائش کی تمام چیزیں خاص طور پر نمائش کے پس منظر کو ذہن میں رکھ کر تیار کی گئی تھیں یا پھر حالیہ برسوں کی تھیں۔
یونیورسٹی کے آرکائیوز سے بارہ کمپوٹر جبکہ لائبریری سے تاریخی کتابیں بھی نمائش میں شامل تھیں۔

 

شیئر: