Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صحرا میں رہنے والے عرب رمضان کا استقبال کیسے کرتے تھے؟

اُمِ سلیمان الجوف ریجن میں سکاکا کی رہنے والی ہیں۔ اُنھیں صحرا نشین عربوں کی زندگی کے دن آج بھی یاد ہیں اور وہ یہ بھی نہیں بھولیں کہ صحرا میں رہنے والے عرب کس طرح رمضان کا استقبال کیا کرتے تھے۔
اُن یادوں کو دہراتے ہوئے اُمِ سلیمان ماضی میں کھو جاتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ تب زندگی بہت سادہ تھی اور آپس میں تعلق بہت گہرا اور مضبوط ہوا کرتا تھا اور یہی اس زمانے کی بنیادی شناخت تھی۔
سعودی پریس ایجنسی سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ماہِ مقدسِ رمضان کی تیاریاں اِس کی آمد سے ہفتوں پہلے شروع ہو جایا کرتی تھیں۔ خاندان کے لوگ، نسل در نسل چلے آ رہے اس زمانے کے روایتی طریقوں سے شعبان کے مہینے کے دنوں کا شمار ذہن میں رکھا کرتے تھے۔
اُن طریقوں میں دھاگے میں گرہیں لگانا یا پھر خیموں پر لکیریں کھینچنا شامل تھا تاکہ معلوم ہو جائے کہ رمضان کے آنے میں کتنے دن باقی رہ گئے ہیں۔
اُس زمانے میں وسائل بہت محدود ہوتے تھے لیکن پھر بھی فیملیاں اپنے لیے کھانے کی چیزوں کا انتظام کر لیا کرتی تھیں۔ اور وسائل کی یہی کمی دراصل صحراؤں میں نصب خیموں میں زندگی گزارنے والے اُن عربوں کے باہمی رشتوں کو طاقت دِیا کرتی تھی۔
رمضان کے مبارک مہینے میں لوگ ایک دوسرے کے ہاں آیا جاتا کرتے تھے اور ایک دوسرے کے متعلق یا اُن کی صحت کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے۔ اِس طرح تعلق توانا ہوتا تھا اور یکجہتی کی اقدار مضبوط ہوتی تھیں۔
اُمِ سلیمان کو یاد ہے کہ عیدالفطر کو صبح کا آغاز  کافی کی تیاری سے کیا جاتا تھا اور جس کے پاس کھانے کے لیے جو کچھ میسر ہوتا وہ لے آتا۔

پھر لوگ ایک دوسرے کو ملنے جاتے تھے، مبارک باد کا تبادلہ ہوتا تھا اور عید کی خوشی مِل جُل کر منائی جاتی تھی۔
اُمِ سلیمان یہ بات زور دے کر کہتی ہیں کہ صحرا نشیں عربوں کی سادگی کے باوجود، گزرے ہوئے لمحوں کی یادیں اُن کے ذہن میں آج بھی تروتازہ ہیں کیونکہ اُس عہد میں باہمی تعاون کے جذبے کا احساس تو تھا ہی مگر دلجمعی، طمانیت اور آسودہ خاطری بہت زیادہ تھی۔

شیئر: