بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی حالت ’انتہائی تشویشناک‘
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی حالت ’انتہائی تشویشناک‘
اتوار 30 نومبر 2025 19:41
محمد یونس کے پریس سیکریٹری شفیق العالم نے فیس بک پوسٹ میں کہا ’اس معاملے میں کوئی رکاوٹیں نہیں ہیں۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیاء کی ’انتہائی تشویش ناک‘ حالت میں دارالحکومت ڈھاکہ میں زیرعلاج ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق خالدہ ضیاء کی جماعت نے اتوار کو اس بات کی تصدیق کی ہے۔
لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے ان کے بیٹے اور جماعت کے قائم مقام سربراہ طارق رحمان نے اپنی وطن واپسی کے حوالے سے غیر یقینی کا اظہار کیا ہے جس سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔
80 سالہ خالدہ ضیاء کو 23 نومبر کو سینے کے شدید انفیکشن کے باعث ایک نجی ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
ڈاکٹروں اور بی این پی کے سینیئر عہدے داروں کے مطابق اس انفیکشن نے ان کے دل اور پھیپھڑوں کو متاثر کیا ہے۔
وہ ایک طویل عرصے سے علیل ہیں لیکن یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ان کی جماعت نے ملک کی سیاسی بساط پر دوبارہ اہم مقام حاصل کیا ہے۔
یہ اہمیت اس وقت بڑھی جب گزشتہ برس بنگلہ دیش میں طلبہ کی زیرقیادت بغاوت میں ملک کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو طویل عرصے کے اقتدار سے ہٹایا گیا۔
سنہ 2008 سے لندن میں مقیم طارق رحمان نے سنیچر کو سوش میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر لکھا کہ ان کی بنگلہ دیش واپسی ’مکمل طور پر‘ ان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔
اس بیان نے ان کی واپسی میں درپیش سیاسی یا قانونی رکاوٹوں سے متعلق قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔
تاہم نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت نے بعد میں واضح کیا کہ رحمان کی واپسی پر ان کی جانب سے ’کوئی پابندی یا اعتراض نہیں ہے۔‘
محمد یونس کے پریس سیکریٹری شفیق العالم نے فیس بک پوسٹ میں کہا ’اس معاملے میں کوئی رکاوٹیں نہیں ہیں۔‘
بنگلہ دیش کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں اب اسے ایک اہم سیاسی جماعت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
عبوری حکومت کے وزیرخارجہ توحید حسین نے اتوار کو کہا کہ اگر طارق رحمان بنگلہ دیش واپس آنا چاہتے ہیں تو حکومت ایک دن کے اندر انہیں سفری دستاویزات جاری کر دے گی۔
شیخ حسینہ واجد کی گزشتہ برس اگست میں اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے طارق رحمان کے خلاف درج تمام مقدمات میں انہیں بری کر دیا گیا ہے جس سے ان کی واپسی کو مشکل بنانے والی قانونی رکاوٹیں مؤثر طریقے سے ختم ہو گئی ہیں۔
بی این پی نے سنہ 2014 اور سنہ 2024 کے متنازع انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا لیکن گزشتہ برس اگست سے اس نے زبردست سیاسی رفتار حاصل کی ہے۔
بنگلہ دیش کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں اب اسے ایک اہم سیاسی جماعت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔