گزشتہ ہفتے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کی پاداش میں سنائی جانے سزا کو ان کے مخالفین ملک کے آگے بڑھنے کے موقعے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی جلاوطنی کے بعد نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں قائم ملک کی عبوری حکومت کے سامنے اس وقت سب سے بڑا چیلنج فروری 2026 میں شفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔
حسینہ واجد گزشتہ برس بنگلہ دیش میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد 15 سالہ اقتدار سے بے دخل کر دی گئی تھیں اور وہ پانچ اگست 2024 سے انڈیا میں مقیم ہیں۔
مزید پڑھیں
-
بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم حسینہ کے فیصلے سے قبل تناؤ میں اضافہNode ID: 897278
-
شیخ حسینہ کی سزائے موت: احتجاج کی کال کے باوجود سکون اور خاموشیNode ID: 897338
حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے پیر کو سزائے موت سنائی تھی۔ حسینہ واجد نے اسے ’جانب دارانہ اور سیاسی محرکات کے تحت کیا گیا فیصلہ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔
ایک مشکل الیکشن
بنگلہ دیش کی نئی قیادت کی کوشش ہے کہ ملک میں نئے شفاف انتخابات کے ذریعے جمہوریت کو بحال کیا جائے اور وہ شیخ حسینہ اور ان کی عوامی لیگ کو انتخابی عمل سے باہر رکھنا چاہتی ہے۔
ایشیا پیسیفک فاؤنڈیشن کینیڈا کے سینیئر فیلو اور تجزیہ کار مائیکل کوگلمین نے کہا کہ ’عبوری حکومت نے عوامی لیگ کو مکمل طور پر دبا دیا ہے۔ اس لیے پولرائزیشن کی سطح بہت بلند ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی تشویش انتخابات سے جڑا ہوا تشدد ہے۔

مائیکل کوگلمین نے کہا کہ ’عوامی لیگ کے کچھ افراد انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ جبکہ بنگلہ دیش کی پولیس فورس کو مورال سے متعلق سنگین مسائل کا سامنا ہے، لہٰذا ریاست کی تشدد کو سنبھالنے کی صلاحیت کے بارے میں خدشات ہوں گے۔‘
بنگلہ دیش میں پولیس سنہ 2024 میں کریک ڈاؤن کی فرنٹ لائن پر تھی اور مظاہرین کے پولیس سٹیشنوں پر حملوں میں کچھ اہلکار مارے بھی گئے تھے۔
شیخ حسینہ واجد کے بیٹے نے خبردار کیا ہے کہ اگر پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی نہیں ہٹائی گئی تو پارٹی انتخابات کو روکنے کی کوشش کر سکتی ہے اور یہ کہ صرف ایک جامع الیکشن ہی ملک کو استحکام دے سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کی جانب سے پیر کے فیصلے کے بعد دوبارہ مطالبہ کیے جانے کے باوجود، انڈیا کا حسینہ واجد کو ملک بدر کرنے کا امکان نہیں ہے۔
مائیکل کوگلمین نے کہا کہ ’حسینہ شاید اپنے وقت کا انتظار کریں گی، وہ انڈیا سے اپنی پارٹی کے امور کا انتظام جاری رکھیں گی اور اس امید کے ساتھ ایک طویل داؤ کھیلیں گی کہ آنے والے برسوں میں حالات بدلتے ہیں تو وہ سیاست میں واپسی کر سکیں۔‘
’بنگلہ دیش میں سیاسی خاندانوں اور ان کی پارٹیوں کو نقصان ہو سکتا ہے لیکن وہ کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں۔‘

بنگلہ دیش کے سینیئر تجزیہ کار صابر مصطفیٰ نے کہا کہ حسینہ واجد کی قیادت کے بغیر عوامی لیگ حوصلہ شکنی کا شکار ہو سکتی ہے لیکن اگر پارٹی آگے بڑھنا چاہتی ہے تو اسے اصلاحات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حسینہ واجد کو خود پارٹی میں اصلاحات شروع کرنا ہوں گی۔
صابر مصطفیٰ نے کہا کہ اس مقدمے میں ’سنجیدہ قسم کے نقائص‘ تھے اور حسینہ واجد کی غیرحاضری میں چلائے گئے مقدمے کے لیے سزائے موت غیرمنصفانہ تھی۔
اس کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ جلد ہی حسینہ واجد کے حامیوں اور دیگر کو سڑکوں پر احتجاج کے لیے لانا ایک چیلنج ہو گا۔
صابر مصطفیٰ نے کہا کہ پارٹی کی اصلاحات اور حسینہ واجد کی رہنمائی میں نئی قیادت کے بغیر عوامی لیگ کے لیے واپسی کرنا مشکل ہو گا۔
انہوں نے کہا ’یہ وہ کڑوا گھونٹ ہے جو انہیں پینا پڑے گا۔‘
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے فیصلے اور مقدمے کی کارروائی پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقدمے کی کارروائی میں انصاف پر سوالات اٹھائے جبکہ اقوام متحدہ کے حقوق کے ادارے نے کہا کہ یہ فیصلہ گزشتہ برس کے کریک ڈاؤن کے متاثرین کے لیے ’ایک اہم لمحہ‘ تھا جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے حالانکہ یہ ادارہ تمام معاملات میں سزائے موت کا مخالف ہے۔
اس تناظر میں محمد یونس کی حکومت کو مقدمے کی کارروائی کی ساکھ کے بارے میں بین الاقوامی برادری کو قائل کرنے کی ضرورت ہو گی۔
مائیکل کوگل مین کے مطابق محمد یونس کی پہلی ترجیح اور ان کا سب سے بڑا چیلنج انتخابات کے لیے ایک محفوظ اور پرامن ماحول کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بہت اہم انتخابات ہیں۔ بنگلہ دیش میں قریباً 20 برسوں میں یہ پہلا الیکشن ہے جس میں ووٹ کے آزادانہ اور منصفانہ ہونے کی قوی توقعات ہیں۔
جنوری 2024 کا الیکشن جس کے نتیجے میں حسینہ واجد مسلسل چوتھی مدت کے لیے اقتدار میں آئی تھیں، اپوزیشن پارٹیوں نے اس کا بائیکاٹ کیا تھا اور یہ پرتشدد احتجاج اور بین الاقوامی سوالات کی زد میں تھا۔

تجزیہ کار صابر مصطفیٰ نے مزید کہا کہ محمد یونس پہلے ہی نوبل امن انعام یافتہ ہونے کی اپنی ساکھ برقرار رکھنے میں ناکام ہو چکے ہیں کیونکہ ان کی قیادت کی موجودگی میں بہت سی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری عبوری رہنما کی حمایت جاری رکھے گی۔
صابر مصطفیٰ نے کہا ’فروری تک ان کے سامنے چیلنج یہ یقینی بنانا ہے کہ معاملات سہولت سے چلیں اور انتخابات فروری میں پرامن اور قابل اعتبار طریقے سے ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ عوامی لیگ پر انتخابی پابندی کے پیش نظر محمد یونس کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ انتخابات کو سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی سربراہی میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یا ملک کی سب سے بڑی اسلامی پارٹی جماعت اسلامی کے ذریعے دھاندلی کا نشانہ نہ بنایا جائے۔
’اس طرح وہ نوبل امن انعام یافتہ کے طور پر اپنی ساکھ کو بحال کر سکتے ہیں۔‘












