بد ذائقہ اور قدرے بدبُودار ہوتی سیاسی رام کہانیوں سے گر فُرصت ہو تو ذرا کچھ دیر کے لیے اہلِ اقتدار کو غور فرمانے کی دعوتِ عام ہے۔
فقط چند لمحوں کے لیے تصور کیجیے کہ آپ کا ایک ہی بیٹا ہو، مشکل سے اُس نے چلنا پھرنا اور اب دوڑنا شروع کیا ہو، توتلی زبان سے ماں باپ کو پکارنا شروع کیا ہو، دن بھر کی مشقت کے بعد آپ گھر پہنچتے ہوں تو اسے دیکھتے ہی آپ کی تھکن فوراً دُور ہو جاتی ہو۔
مزید پڑھیں
-
سیاسی اتفاق رائے نامی ناٹک! اجمل جامی کا کالمNode ID: 887414
-
’جیت اور ہار کا تماشا ہے،‘ اجمل جامی کا کالمNode ID: 888466
-
گنڈاپور کی وہ کہانی جو انہیں لے ڈوبی، اجمل جامی کا کالمNode ID: 895620
اسے اٹھاتے ہی آپ تروتازہ اور دن بھر کی پریشانیاں بُھول جاتے ہوں۔ ماں اُس کے نام کی مالا جپتے جپتے دن رات ایک کرتی ہو۔ بیماریوں سے نبردآزما دادا دادی آپ کی اکلوتی اولاد کو دیکھ کر خُود کو صحت مند محسوس کرنے لگیں،
اور پھر اچانک ایک روز آپ کا یہ اکلوتا بیٹا، راہ چلتے چلتے آپ کی اُنگلی چُھڑا کر تھوڑی دیر آگے بھاگ نکلے اور چند قدم بعد آپ کی آنکھوں کے سامنے کُھلے گٹر میں گِر کر ہمیشہ کے لیے رُخصت ہو جائے اور آپ بے بسی کی تصویر بنے اس حادثے کو تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہوں تو آپ پر کیا بیتے گی؟
اہلِ اقتدار تو شاید یہ تصور کرنے سے ہی انکاری ہوں لیکن قارئین تھوڑی دیر کے لیے ضرور اس تکلیف کو محسوس کر رہے ہوں گے جس سے کراچی کا بے بس والد گزر رہا ہے۔
شاہ فیصل کالونی کراچی کا رہائشی نبیل اپنی اہلیہ اور اکلوتے بیٹے کے ہمراہ معمول کی خریداری کے لیے نیپا چورنگی کے قریب ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور میں گیا۔
باہر موٹرسائیکل پارکنگ کی جانب نکلا تو تین سال کا ابراہیم باپ اور ماں کی نگرانی سے اُنگلی چُھڑا کر چند قدم آگے کی جانب بھاگ دوڑا، سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ بچہ بمشکل آٹھ یا دس قدم ہی دُور پہنچا کہ اچانک سامنے موت کے کنویں میں جا گرا۔
وہی موت کا کنواں جسے کراچی میں کُھلا گٹر یا بغیر ڈھکن کے ’مین ہول‘ کہا جاتا ہے۔ وہی ’مین ہول‘ جو ہر سال درجنوں افراد کو نِگل جاتا ہے۔

وہی ’مین ہول‘ جسے بھرنے کے لیے ایک زمانے میں پی ٹی آئی کے عالمگیر خان بھی منظرِعام پر آئے۔ وہی ’مین ہول‘ جس کے غائب ہونے کی ذمہ داری قبول کرنے کو کوئی محکمہ کوئی سرکار کوئی رہنما اور کوئی مسیحا تیار نہیں۔
ماں فوراً بچے کی جانب لپکتی ہے، باپ ہاتھ پاؤں مارتا ہے، آس پاس کھڑے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں۔ شور مچتا ہے۔ مختلف محکموں کو فون کیا جاتا ہے کہ تین سال کا بچہ اس ’مین ہول‘ میں گر گیا ہے، اُس کی جان بچانی ہے، اُسے ڈھونڈنا ہے۔
پاس کھڑی ماں اور باپ بے بسی کی تصویر بنے زار و قطار رو رہے ہیں لیکن لگ بھگ 15 گھنٹوں تک بچہ نہیں ملتا۔ خود سے پیسے اکٹھے کر کے پرائیویٹ مشین منگوا کر کُھدائی کی جاتی ہے لیکن بچے کا دُور دُور تک کوئی سراغ نہیں ملتا۔
کچھ محکمے وہاں پہنچے، ناکافی مشینری ہونے کا عذر پیش کرتے ہی یہ واپس چل دیتے ہیں۔ ماں لختِ جگر کو ڈُوبتا دیکھ چکی تھی، بے ہوش ہو گئی، حواس کھو بیٹھی اور آج چار روز گزرنے کے باوجود بھی کچھ کہنے سے کچھ بولنے سے کچھ سمجھنے سے کچھ محسوس کرنے سے مکمل طور پر قاصر ہے۔ اُس کی دُنیا اُجڑ چُکی۔

اور باپ۔۔۔؟ باپ ساری عمر کے لیے ایک عجب گِلٹ کا شکار ہو چکا، کاش بچے کا ہاتھ نہ چھوڑتا، کاش وہ اُس ڈیپارٹمنٹل سٹور نہ جاتا، کاش وہاں کُھلا گٹر نہ ہوتا، کاش بچہ اس میں نہ گرتا، کاش اس گٹر پر ڈھکن لگا ہوتا، کاش ذمہ دار محکمے بچہ تلاش کرنے میں فوری کامیاب ہوتے، کاش بچہ بچ جاتا۔
اس گِلٹ کے ساتھ ساتھ وہ تاحیات اس نظام، اس سرکار اور ان تمام حکمرانوں کو جھولیاں بھر بھر بددعائیں بھی دے گا۔ اس سرکار کے حق میں یہ مظلوم نبیل کبھی کلمۂ خیر نہیں کہہ پائے گا۔
یہ بے حِس اقتدار کے پُجاری اب اس باپ کی جھولی بھلے کروڑوں یا اربوں رُوپوں سے بھر دیں لیکن اس کا لعل ابراہیم اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔
ستم ظریفی کی حد یہ تھی کہ 15 گھنٹوں بعد جب بچے کی نعش ملی تو وہ بھی ایک کمسن بچے کو جو کوڑا کِرکٹ اُٹھا کر اپنا پیٹ پالتا تھا۔ اسے بُلا کر افسران شاباش دے رہے ہیں مگر شرم سے ڈُوب مرنے کا خیال اُنہیں بھی نہیں آرہا۔
واقعہ پیش آیا تو سوشل میڈیا پر عوام کا غیض و غضب دیکھنے کو ملا، پیپلز پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیمیں البتہ ’ایکس‘ پر میئر کراچی کے حق میں ٹرینڈ چلا کر داد وصول کر رہی تھیں۔













