پاکستان اور روس کا ’این ایس ٹی سی کے راستے آزمائشی کارگو‘ جاری رکھنے پر اتفاق
پاکستان اور روس کا ’این ایس ٹی سی کے راستے آزمائشی کارگو‘ جاری رکھنے پر اتفاق
جمعرات 4 دسمبر 2025 9:52
پاکستان روس بین الحکومتی کمیشن کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا (فوٹو: وزارت توانائی)
پاکستان اور روس نے نارتھ ساؤتھ انٹرنیشنل کوریڈور کے مشرقی روٹ کے راستے سامان کی نقل و حمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
جمعرات کو ریڈیو پاکستان کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ ایک کثیرالطرفہ نیٹ ورک ہے جو جنوبی اشیا کو وسطی ایشیا، روس اور پھر آگے یورپ سے ملاتا ہے۔
یہ روٹ سڑک، سمندر اور ریلوے کے امتزاج پر مشتمل ہے اور اس کو خصوصی طور پر مال برداری کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو کہ مشرق وسطیٰ تک رسائی کے سمندری راستوں کا متبادل ہے۔
اس کے ذریعے پاکستان اپنی اشیا زمینی راستے سے وسطی ایشیا اور یورپ تک پہنچا سکتا ہے جبکہ روس کو یہ گرم پانیوں کی بندرگاہوں اور بحیرہ عرب کے چھوٹے تجارتی راستوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب تین برس سے پاکستان اور روس کے تعلقات مسلسل بہتر ہوئے ہیں۔
اس دوران ہونے والے اقدامات میں پاکستان کی جانب سے خام روسی تیل کی رعایتی نرخوں پر خریداری اور مائع پیٹرولیم گیس کی خریداری کے معاملات بھی شامل ہیں۔
پچھلے کچھ برسوں کے دورن ماسکو نے خطے میں اپنی رسائی کو بڑھایا ہے کیونکہ پاکستان بھی متنوع توانائی کے ذرائع کی درآمد چاہتا ہے اور نئی برآمدی راہداریوں کی بھی تلاش میں ہے۔
اسلام آباد میں پاکستان روس بین الحکومتی کمیشن کے 10 ویں اجلاس کے بعد ریڈیو پاکستان کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’دونوں ممالک نے نارتھ ساؤتھ انٹرنیشنل کوریڈور کے مشرقی روٹ کے ذریعے آزمائشی مال برداری کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور اس کا مقصد علاقائی رابطوں کو بہتر بنانا ہے۔‘
تین روز پر مشتمل اس سیشن کی سربراہی پاکستان کے وزیر توانائی اویس لغاری اور روسی ہم منصب سرگئی تسیویلف نے کی۔
اس میں اقتصادی پالیسی، توانائی کے بنیادی انفراسٹرکچر اور سٹریٹیجک ٹرانسپورٹ کے باہمی اشتراک میں تعاون کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستان اس سے قبل روسی خام تیل کی رعایتی نرخوں پر خریداری بھی کر چکا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
اسی طرح پاکستان کی سرکاری نیوز ایجنسی پاکستان ایسوسی ایٹڈ پریس کی جانب سے بدھ کو بتایا گیا تھا کہ اسلام آباد اور ماسکو کی یونیورسٹیز ایشیا پیسیفک اور یوریشین سٹڈیز کے اشتراک سے پاکستان روس یوریشیا فورم کی میزبانی بھی کریں گی۔
رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد تعلیم، ثقافت اور ممالک کے لوگوں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
دو روز پر مشتمل اس ایونٹ میں پالیسی ساز، سکالرز، کاروباری شخصیات اور نوجوان شریک ہوں گے جس کا مقصد ان کو ایک دوسرے کے قریب ہونے کا موقع دینا ہے۔
یہ پیشرفت دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے رابطوں کو ظاہر کرتی ہیں کیونکہ اسلام آباد خود کو زیادہ سے زیادہ یوریشا سے جوڑنا چاہتا ہے جبکہ روس عالمی معاشی میدانوں کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔