Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ڈانس کیا کوئی قتل نہیں‘، مالاکنڈ یونیورسٹی میں پروفیسر کے رقص پر تنازع

طلبہ کا کہنا ہے کہ پروفیسر نے رقص میں حصہ لے کر شاگردوں کی حوصلہ افزائی کی (فوٹو: مالاکنڈ یونیورسٹی)
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کی مالاکنڈ یونیورسٹی میں سلور جوبلی کی مناسبت سے تین روزہ رنگا رنگ تقریبات منعقد کی گئیں مگر اس میلے میں ہونے والے روایتی رقص نے نیا تنازع پیدا کر دیا ہے۔
یونیورسٹی کے یوم تاسیس کی تقریب میں طلبہ کے ساتھ جامعہ کے پروفیسر ساجد نے بھی روایتی پشتو رقص ’اتن‘ پیش کیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہوگیا۔
شعبہ پولیٹکل سائنس کے پروفیسر ساجد خان کے روایتی ڈانس پر سب سے پہلے ایک تنظیم ‘اسلامی جمعیت طلبہ‘ کی طرف سے تنقیدی بیان سامنے آیا جس میں استاد کے رقص کو ’غیر اخلاقی‘ قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والے نعمان خالد کہتے ہیں کہ ’جامعہ کے پروفیسر کا طلبہ وطالبات کے درمیان ڈانس کرنا غیر مناسب ہے۔ استاد اور شاگرد کے درمیان ایک احترام کا رشتہ ہونا چاہیے۔ اگر پروفیسر طالبات کے سامنے ڈانس کرے گا تو پھر احترام ختم ہوجاتا ہے۔‘
جامعہ مالاکنڈ کے طالب علم حبیب اللہ کا کہنا ہے کہ مخلوط میوزک کی محفل کی وجہ سے لوگوں نے تنقید کی۔ انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ وہ طلبہ کے  لیےالگ تقریب کا انعقاد کرتی تاکہ کسی کو اعتراض کا موقع نہ ملتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایکسپو کے اختتام پر پشتو موسیقی اور اتن رقص پیش کیا گیا جس میں فیکلٹی سٹاف اور طلبہ نے مل کر رقص کیا جبکہ طالبات نے تالیاں بجا کر ان کی پذیرائی کی۔
دوسری جانب کچھ طلبہ طالبات سمجھتے ہیں کہ پروفیسر کے رقص میں کچھ بھی قابلِ اعتراض نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’روایتی رقص میں سب مل کر شامل ہوئے۔ پروفیسر صاحب نے اپنے طلبہ کے لیے رقص میں حصہ لیا۔‘
طالب علم نوید احمد سمجھتے ہیں کہ پروفیسر ساجد نے پرفارمنس میں حصہ لے کر شاگردوں کی حوصلہ افزائی کی۔ ’اتن رقص میں کوئی قباحت نہیں، کیا ہوا اگر ڈانس کیا کوئی قتل تو نہیں کیا۔‘

کچھ طلبہ طالبات سمجھتے ہیں کہ پروفیسر کے رقص میں کچھ بھی قابلِ اعتراض نہیں تھا (فوٹو: عتیق خان انسٹاگرام)

طالب علم کہتے ہیں میوزک امن اور محبت کی علامت ہے۔ ’صرف نوجوان لڑکے ڈانس کررہے تھے جس میں خواتین شامل نہیں تھیں نہ انہوں نے اس میں حصہ لیا۔ سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔‘
ریٹائرڈ پروفیسر فرید اللہ اعوان کی رائے ہے کہ جامعات میں تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیاں بھی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں جس میں طلبہ کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’فیسٹیول میں موسیقی بجانا یا اس پر رقص کرنا کوئی غیر قانونی اقدام ہے نہ ہی یونیورسٹی ڈیکوروم کے خلاف ہے۔ میلے کا مقصد ہی غیر نصابی سرگرمی ہے جس میں موسیقی ، شاعری ، خوراک اور دیگر کھیل شامل ہیں۔ ‘
پروفیسر فریداللہ اعوان نے کہا کہ مالاکنڈ یونیورسٹی میں سلور جوبلی تقریبات انتظامیہ کی جانب سے منعقد کی گئی تھیں اس میں کسی ایک پروفیسر کو ٹارگٹ کرنا سوچی سمجھی سازش لگتی ہے۔‘
یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یونیورسٹی آف مالاکنڈ کے قیام کی 25ویں سالگرہ کے سلسلے میں رنگارنگ تقریبات کا آغاز ہوا۔ یہ تقریبات ایک ہفتے تک جاری رہیں جس میں گل داؤدی شو اور ایکسپو سمیت فن فیئر کا انعقاد ہوا۔‘
یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق 130 مختلف سٹالز لگائے گئے تھے جس میں فوڈ، آرٹ، فیشن، کلچر اور بزنس سٹال شامل تھے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سلور جوبلی تقریبات میں صحت مندانہ سرگرمیاں رکھی گئی تھیں جس میں بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات سمیت والدین بھی شریک ہوئے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس مالاکنڈ یونیورسٹی میں طالب علم کو ہاسٹل کے کمرے میں رباب رکھنے کی وجہ سے یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا۔

 

شیئر: