صحرائے ربع الخالی جزیرہ نما عرب کا سب سے بڑا ریتیلا صحرا
صحرائے ربع الخالی جزیرہ نما عرب کا سب سے بڑا ریتیلا صحرا
جمعہ 12 دسمبر 2025 19:35
ربع الخالی کو دنیا کا سب سے بڑا متصل ریتیلا صحرا مانا جاتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کا صحرائے ربع الخالی عالمی سطح پر غیرمعمولی شہرت کا حامل ہے۔ متصل ریتیلے صحرا کی متعدد خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے یہ دنیا کا عظیم ترین صحرا مانا جاتا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق دنیا بھر میں متصل ریتیلے صحراؤں میں ’ربع الخالی‘ کو سب سے بڑا صحرا کہا جاتا ہے جو جزیرہ نما عرب کے جنوب مشرقی علاقے کے تین چوتھائی رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
ربع الخالی صحرا کا مجموعی رقبہ 6 لاکھ 40 ہزار مربع کلو میٹر ہے جو کہ مملکت کے 67.7 فیصد ریتیلے علاقے کی نمائندگی کرتا ہے۔
اس صحرا کو دنیا کے سب سے بڑے ریتیلے صحراؤں میں شمار کیا جاتا ہے اس کی دیگر خصوصیات میں 300 میٹر تک بلند و بالا ریت کے عظیم الشان ٹیلے ہیں جو اسے دیگر صحراؤں میں نمایاں کرتے ہیں۔
تیل اور دیگر معدنیات کے ذخائر بھی اس صحرا میں موجود ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
صحرائے ربع الخالی میں ریت کے ٹیلوں کی متعدد اقسام پائی جاتی ہیں جو اپنی طرز اور بناوٹ کے اعتبار سے بھی منفرد ہیں جن میں ہلالی شکل کے ٹیلے، طولی انداز میں پھیلے ہوئے ٹیلے جنہیں عرف عام میں ’العروق‘ کہا جاتا ہے جبکہ ’ستارہ‘ نما ٹیلے بھی وہاں پائے جاتے ہیں۔
ربع الخالی کا صحرا قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے یہاں ’شیبہ‘ کے مقام پر تیل اور قدرتی گیس کے بڑے ذخائر بھی موجود ہیں جو دنیا کے سب سے بڑے تیل کے میدان الغوار کے نزدیک ہیں۔
منفرد ریتیلے ٹیلے اس کی مثالی شناخت ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
دیگر معدنیاتی ذخائر میں جپسم ، صحرائی نمک اور شیشہ سازی کے لیے کام آنے والی ریت کے علاوہ ’النقیحاء‘ کے علاقے میں زیر زمین آبی ذخائر بھی موجود ہیں جو نجران کے علاقے کے لوگوں کے کام آتے ہیں۔
نجران میں آثار قدیمہ اور تاریخ کی سوسائٹی کے صدر محمد آل ھتیلہ کا کہنا ہے کہ ’صحرا میں متعدد آثار قدیمہ بھی موجود ہیں جن میں ’عروق المندفن‘، عرق البیر، خطمہ کنوئیں اور خشم العان کے آثار کے علاوہ محفوظ علاقوں میں ’عروق بنی معارض‘ کا علاقہ بھی شامل ہے۔