پاکستان میں شرحِ سود میں مزید کمی، ’تجزیہ کاروں کے لیے حیران کن‘
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’ ’معاشی بہتری سے عوام کو جس قدر ممکن ہے، ریلیف فراہم کر رہے ہیں‘ (فائل فوٹو: پی ایم او)
پاکستان کی مرکزی بینک نے شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کا اعلان کیا ہے جسے معاشی تجزیہ کار ایک حیران کن اقدام کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
پیر کو شرح سود میں کمی کے بعد اب یہ شرح 10.5 فیصد ہو گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سٹیٹ بینک کے اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ’شرح سود میں کمی اور قرضے کم لاگت پر ملنے سے چھوٹے و درمیانے پیمانے کے کاروبار سب سے زیادہ مستفید ہوں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’معاشی بہتری سے عوام کو جس قدر ممکن ہے، ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔‘
پاکستان کے مرکزی سٹیٹ بینک کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے بیان کے مطابق یہ اقدام چار مسلسل اجلاسوں میں شرح سود کو برقرار رکھنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کے اس فیصلے نے مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا ہے کیونکہ اس سے قبل بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے وقت سے پہلے شرحوں میں نرمی سے گریز کرنے کی تنبیہہ کی تھی۔
روئٹرز کے ایک سروے میں شامل تمام 12 تجزیہ کاروں نے توقع ظاہر کی تھی کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اپنی پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھے گا۔
پیر کی اس کمی کے بعد شرح سود میں مجموعی کمی 1150 بیسز پوائنٹس تک پہنچ گئی ہے جو کہ اس کی 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد کی گئی ہے۔
سٹیٹ بینک نے جون 2024 سے مئی 2025 کے دوران 1100 بیسز پوائنٹس کی کمی کی تھی اور اس کے بعد پیر کے اقدام سے قبل چار اجلاسوں میں شرح سود کو برقرار رکھا تھا۔
دوسری جانب ملک میں مہنگائی کی شرح نومبر میں معمولی کمی کے بعد 6.1 فیصد پر آگئی ہے جو کہ اکتوبر میں 6.2 فیصد تھی۔
یہ شرح سٹیٹ بینک کے مقرر کردہ پانچ فیصد سے سات فیصد کے ہدف کے اندر ہے تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مالی سال 2026 کے بعد کے حصے میں بیس ایفیکٹس کے ختم ہونے اور خوراک و نقل و حمل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث اس میں دوبارہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کی ایک سٹاف رپورٹ نے گزشتہ ہفتے ہی وقت سے پہلے شرحوں میں نرمی کے خلاف خبردار کیا تھا اور کہا تھا کہ ’توقعات کو مضبوط کرنے اور بیرونی ذخائر کی تعمیر نو کے لیے پالیسی کا ڈیٹا پر مبنی رہنا ضروری ہے۔‘
آئی ایم ایف کی یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب پاکستان کو اپنے قرض پروگرام کے تحت ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر کی قسط موصول ہوئی ہے۔
