Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ نے حملہ کیا تو امریکی فوج اور اسرائیل کو نشانہ بنایا جائے گا: ایران

ایران میں جاری پُرتشدد مظاہروں میں کم از کم 116 افراد ہلاک ہو چکے ہیں (فوٹو: اے پی)
ایران کی مذہبی حکومت کے خلاف ملک گیر مظاہروں میں دارالحکومت میں مظاہرین اتوار کو بھی سڑکوں پر موجود ہیں۔ دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری ان پُرتشدد مظاہروں میں کم از کم 116 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ بند ہونے اور فون لائنیں منقطع ہونے کے باعث بیرونِ ملک سے ان مظاہروں کی صورتِ حال پر نظر رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
اس کے باوجود مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے کارکنوں کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو ہزار 600 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
اسی دوران ایران کے پارلیمنٹ کے سپیکر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ کیا، جیسا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے، تو امریکی فوج اور اسرائیل جائز اہداف ہوں گے۔
محمد باقر قالیباف نے یہ دھمکی اُس وقت دی جب ایرانی پارلیمنٹ میں اراکین اپنی نشستوں سے اُٹھ کر ڈائس کی طرف بڑھے اور ’امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے لگائے۔
بیرونِ ملک موجود افراد کو خدشہ ہے کہ اطلاعات کی یہ بندش ایران کی سکیورٹی فورسز کے سخت گیر عناصر کو خوں ریز کریک ڈاؤن کرنے کی جرات دے گی۔ حالانکہ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ وہ پُرامن مظاہرین کے تحفظ کے لیے ایران پر حملہ کرنے کو تیار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ ’ایران آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے، ایسا شاید پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اور امریکہ مدد کے لیے تیار ہے۔‘
نیو یارک ٹائمز اور وال سٹریٹ جرنل نے نام ظاہر کیے بغیر امریکی حکام کے حوالے سے سنیچر کی رات رپورٹ کیا کہ صدر ٹرمپ کو ایران پر حملے کے فوجی آپشنز دیے گئے ہیں، لیکن انہوں نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
امریکی وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ ’صدر ٹرمپ کے ساتھ گیمز مت کھیلو، جب وہ کچھ کہنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ اسے کر کے دکھاتے ہیں۔‘
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے پارلیمنٹ کے اجلاس کو براہِ راست نشر کیا۔
محمد باقر قالیباف جو ایک سخت گیر سیاست دان ہیں اور ماضی میں صدارت کے لیے انتخاب بھی لڑ چکے ہیں، نے پولیس اور ایران کی نیم فوجی انقلابی گارڈز کی تعریف کی کہ انہوں نے مظاہروں کے دوران ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے عوام کو جان لینا چاہیے کہ ہم ان سے انتہائی سختی سے نمٹیں گے اور جنہیں گرفتار کیا گیا ہے انہیں سزا دی جائے گی۔

 

شیئر: